پاکستان نے برطانیہ سے باضابطہ طور پر عادل راجہ اور مرزا شہزاد اکبر کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعرات کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایک ملاقات کے دوران دونوں افراد کی حوالگی سے متعلق دستاویزات پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے حوالے کیں۔بی بی سی اردو کے پاس عادل راجہ اور سابق پاکستانی وزیر مرزا شہزاد اکبر کے خلاف الزامات کی تفصیلات موجود نہیں لیکن وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پراپیگنڈا کرنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم کیے۔وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار پر پورا یقین رکھتے ہیں لیکن فیک نیوز ہر ملک کے لیے مسئلہ ہے۔ بیرون ملک بیٹھ کر ریاست اور اداروں کے خلاف بہتان تراشی اور ہرزہ سرائی کی کوئی ملک اجازت نہیں دے سکتا۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان غیرقانونی پناہ گزینوں اور مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ تو موجود ہے لیکن یہ کوئی باقاعدہ ’ایکسٹراڈیشن ٹریٹی‘ نہیں۔سنہ 2022 میں پاکستان اور برطانیہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مجرموں اور غیرقانونی پناہ گزینوں کی برطانیہ سے پاکستان حوالگی کی جا سکتی ہے۔تاہم برطانیہ میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کی برطانیہ سے باقاعدہ پاکستان حوالگی ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔برطانوی بیرسٹر ٹوبی کیڈمین نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ جس جرم کے سبب حوالگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اس کا برطانیہ میں بھی جرم ہونا اور اس کی سزا کم از کم 12 مہینے کی قید ہونا ضروری ہے۔دوسری بات یہ کہ جن جرائم پر حوالگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ سیاسی نوعیت کے نہ ہوں۔ماضی میں ایسے معاملات پر پاکستانی کی رہنمائی کرنے والے بیرسٹر ٹوبی کیڈمین نے مزید کہا کہ جن افراد کی حوالگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے انھیں شفاف ٹرائل کا موقع ملے گا اور ان کے حقوق کو یقینی بنایا جائے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پراپیگنڈا یا فیک نیوز کے الزام میں حوالگی ہو سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس فیک نیوز اور پراپیگنڈا کو برطانیہ میں بھی مجرمانہ فعل ثابت کرنا ایک چیلنج ہو گا۔برطانیہ فوجداری ضابطے کے تحت کی جانے والی ہتکِ عزت کو مجرمانہ فعل تصور نہیں کرتا۔
کسی بھی پاکستانی کی حوالگی پیچیدہ معاملہ ہے، بی بی سی ۔۔۔
Facebook Comments
