تحریر: حمیرا اطہر
اس سال نومبر کا آغاز ایک نہایت ہی خوش گوار دن سے ہوا کہ جب پہلی تاریخ کو کراچی پریس کلب میں، کے یو جے (کراچی یونین آف جرنلسٹس) کی پلاٹینیم جوبلی منائی گئی۔ اس کا مقصد صحافت میں صحافیوں کی کارکردگی خصوصاً ”مزاحمتی صحافت“ کے سلسلے میں جائزہ لینا اور خراج پیش کرتا تھا۔
یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد بلکہ انوکھی تقریب تھی، جس کے روح رواں روزنامہ ”ایکسپریس“ کراچی کے ایڈیٹر سیّد حسن عباس (کے یو جے کے گروپ ہیڈ) تھے۔ پریس کلب میں پارکنگ کے لیے مخصوص جگہ پر خوب صورت پنڈال سجایا گیا تھا، اندر داخل ہوتے ہی ”زندہ ہے، صحافی زندہ ہے“ سنائی دیا۔ یہ صحافیوں کا ترانہ تھا جو تقریب کے دوران میں بھی وقتاً فوقتاً بجتا رہا۔ دائیں جانب خوب صورت پس منظر کے ساتھ سینئر صحافی سحر حسن اور روبینہ یاسمین کی نگرانی میں ایک ”ڈیجٹل سیکشن“ کام کر رہا تھا۔ یہ دونوں سینئر صحافیوں کو ”گھیر گھیر“ کے لاتیں اور پلاٹینیم جوبلی کے حوالے سے ان کے تاثرات ریکارڈ کرواتی رہیں۔ جب کہ فوٹوگرافی کے فرائض سینئر فوٹوگرافر گڈو اور اقبال سواتی ادا کر رہے تھے۔ بائیں جانب جو اسٹیج بنا تھا، وہ اس لحاظ سے منفرد اور چونکا دینے والا تھا کہ یہاں ایک بڑی سی اسکرین پر صحافیوں کی جدوجہد کے بارے میں تصاویر چل رہی تھیں۔ ایک کونے میں روسٹرم بھی رکھا تھا جہاں سے جلسے کی نظامت ہونی تھی لیکن صدر، مہمانان خصوصی اور مقررین وغیرہ کی نشستیں ندارد۔ البتہ سامنے تینوں طرف سفید صوفوں کی دو قطاریں، ان کے پیچھے گول میزیں اور کرسیاں موجود تھیں۔ صوفے سینئر صحافیوں اور سینئر مرحومین کی بیگمات کے لیے مخصوص تھے۔
پروگرام کا آغاز حسب ِ روایت تلاوت ِ قرآن سے ہوا، اس کے بعد ”خلاف ِ روایت“ قومی ترانہ بجایا گیا۔ یہ تبدیلی سب کو بہت بھلی لگی اور کھڑے ہو کر خود بھی قومی ترانہ پڑھا۔نظامت دو سینئر صحافیوں، شیریں جامی اور شہر بانو نے کی۔ شہر بانو ایوارڈ کے لیے نام پکارے جانے کے ساتھ ہر صحافی کا بھرپور تعارف بھی پیش کرتی رہیں۔
سیّدحسن عباس نے تقریب کے آغاز میں بتایا کہ یہ جو اسٹیج خلاف ِ معمول خالی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیے صحافت میں جدوجہد کرنے والے تمام ہی صحافی معتبر اور صحافت کا فخر ہیں۔ ہم نے یہ پروگرام ان ہی کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کیا ہے، لہٰذا اسے کسی سرکاری عہدے دار کی نذر نہیں کر سکتے۔ آج ہمارے لیے آپ سب ہی ”مہمانان خصوصی“ ہیں۔
اور اس کا عملی ثبوت یوں دیا گیا کہ پہلے ایک سینئر صحافی کو ایوارڈ لینے کے لیے بلایا جاتا تو کر اسے ایوارڈ دینے کے لیے بھی دوسرے سینئر صحافی کو زحمت دی جاتی،ایوارڈ لینے والا تو ایوارڈ لے کر اسٹیج سے اتر جاتا لیکن دینے والے کو وہیں روک لیا جاتا، پھر اسے ایوارڈ دینے کے لیے اس سے بھی کسی سینئر صحافی کا نام پکارا جاتا۔ یوں باری باری تمام ہی لوگ ”مہمان خصوصی“ یا ”صدر“ کے عہدے پر ”فائز“ نظر آئے۔ مثلاً یہ سعادت میرے حصے میں کہ مجھے ایک مرحوم صحافی شبّر اعظمی کا ایوارڈ دینے کے لیے بلایا گیا جو اُن کی بیگم تسنیم حیدر نے وصول کیا، تو اس کے فوراً بعد دوسری سینئر صحافی مہناز رحمٰن کو زحمت دی گئی کہ وہ آکر مجھے ایوارڈ دیں۔
مجھے یاد ہے، جب میں نے صحافت کا آغاز کیا اور کراچی پریس کلب کی رکن بنی تو معلوم ہوا کہ اس کلب میں سرکاری اہل کاروں کا داخلہ منع ہے لہٰذا، یہاں کسی بھی پروگرام کی صدارت کسی وزیر یا گورنر نے نہیں کی۔ پھر عبدالحمید چھاپرا کے زمانے میں اسے ”ہائیڈ پارک“ کا نام دے دیا گیا کہ ہر طبقہ ¿ فکر کے نمائندے یہاں آکر حکومت ِ وقت کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتے تھے۔ سو اس تقریب بھی کوئی سرکاری اہل کار تو کجا کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ بھی نظر نہیں آیا۔
تقریب میں کے یو جے، پی ایف یو جے اور اِن تنظیموں کے بانیوں، آزادیٔ صحافت کے سرخیل منہاج برنا، نثار عثمانی، عبدالحمید چھاپرا، احفاظ الرحمن، شبّر اعظمی، شمیم الرحمن، نادر شاہ عادل، عبدالقدوس، معین الحق، صدیق بلوچ اور زبیدہ مصطفیٰ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایوارڈ کا ہدیہ پیش کیا گیا تو موجودہ سینئر صحافیوں کو بھی خراج ِ تحسین پیش کیا گیا۔ یہ ایوارڈ پانے والوں میں کے یو جے کے پہلے سکریٹری خوا جہ رضی حیدر، کے ساتھ حبیب خان غوری، بچل لغاری، کارٹونسٹ فیکا، مجید عباسی، مقبول خان، جی ایم جمالی، ڈاکٹر جبّار خٹک، توصیف احمد خان، اکرام مہدی، شمیم اختر، حمیرا اطہر (راقم الحروف) صفدر علی اور حیدرآباد کے علی حسن شامل تھے۔ اس کے ساتھ ڈاکٹر عصمت آرأ، (چیئر پرسن شعبۂ صحافت، جامعہ کراچی) ڈاکٹر یاسمین فاروقی (ڈین فیکلٹی میڈیا سائنسز اینڈ ڈیزائن، عِلما یونیورسٹی) اور پروفیسر وجیہہ رضا رضوی (ڈین فیکلٹی میڈیا سائنسز، اقرا یونیورسٹی) کو خصوصی شیلڈ پیش کی گئیں کہ ان کے طلبا و طالبات اس تنظیم میں سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔
تقریب میں یہ جان کر ہماری طرح بہت سے لوگوں کو خوش گوار حیرت ہوئی کہ یہاں کے یو جے اور پی ایف یو جے کے عہدے داران میں صحافی خواتین کی تعداد نہ صرف زیادہ ہے بلکہ انہوں نے تقریب کے انعقاد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان میں کے یو جے کی سکریٹری لبنیٰ جرّار، جو ائنٹ سکریٹری روبینہ یاسمین، پی ایف یو جے (سندھ) کی نائب صدر غزالہ فصیح، سکریٹری فنانس شہر بانو، جوائنٹ سکریٹری شمائلہ نواز، گورننگ باڈی کی اراکین میں شیریں جامی اور ثمین نواز شامل تھیں۔ ان کے ساتھ پی ایف یو جے کے صدر رانا عظیم، سکریٹری شکیل احمد اور کے یو جے کے صدر اعجاز احمد شامل تھے۔ ان کے ساتھ دیگر اراکین یعنی ناصر شریف، عائشہ خان، راشد لطیف، عاجز جمالی اور شاہد غزالی وغیرہ بھی موجود تھے۔ کراچی پریس کلب یونین کے سکریٹری سہیل افضل اور جوائنٹ سکریٹری محمد منصف نے بھی خصوصی شرکت کی۔
آخر میں مہمانوں کی تواضع نہایت پُرتکلف عشائیہ سے کی گئی۔ اس میں بھی خوش آئند بات یہ تھی کہ صوفوں پر بیٹھے تمام سینئر صحافیوں یعنی مہمانان خصوصی کو ان کی نشستوں ہی پر کھانا فراہم کیا گیا جب کہ دیگر شرکا کے لیے حسب ِ روایت دونوں جانب کھانے کی ڈشیں رکھی تھیں اور وہ کھانا لے کر اپنی نشستوں پر آجاتے تھے۔
یوں ساڑھے سات بجے سے شروع ہونے والی یہ یادگار تقریب قریباً دس بجے اختتام کو پہنچی، جو بیشتر صحافیوں کے لیے ”تجدیدِ ملاقات“ کی تقریب بھی بن گئی کہ اُن کا پریس کلب میں آنا کم کم ہی ہوتا ہے۔
ہماری دعا ہے کہ کے یو جے اسی طرح پہلے پھولے اور ایسی محفلیں منعقد ہوتی رہیں تا کہ صحافت میں نئے آنے والوں کو اپنے سینئرز، خصوصاً، رفتگان کے بارے میں آگہی ملتی رہے۔(حمیرا اطہر)۔۔
