کئی بڑے اداکاروں کے جسم سے بدبوآتی ہے، اداکارہ و ماڈل کا انکشاف۔۔

اداکارہ و ماڈل مہربانو نے ایک انٹرویو میں شوبز کی دنیا کا تاریک پہلو سب کے سامنے بے نقاب کردیا۔مہربانو حال ہی میں مزاحیہ پروگرام ’ہنسنا منع ہے‘ میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ ڈراموں میں معصوم لڑکی کے کردار ادا کرنا پسند نہیں کرتیں، بلکہ ایسے کرداروں کو ترجیح دیتی ہیں جن میں لڑکیاں پُراعتماد ہوتی ہیں اور اپنے فیصلے خود کرتی ہیں، کیونکہ ایسے کردار ان کی اپنی شخصیت سے زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔مہر بانو نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انڈسٹری کے کئی بڑے اداکاروں کے جسم سے بدبو آتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ادکارہ کے مطابق وہ اداکار عفان وحید کے ساتھ ایک پروجیکٹ پر کام کر رہی تھیں، جہاں ایک ساتھی اداکار کے جسم سے بدبو بہت زیادہ آ رہی تھی، لیکن انہوں نے انہیں کچھ نہیں کہا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ عام طور پر کسی کو اس حوالے سے کچھ نہیں کہتیں اور پروفیشنل انداز میں سب کچھ برداشت کرتی ہیں۔مہربانو نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں لڑکوں اور لڑکیوں کو بہت زیادہ ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیمرے کے سامنے اور پیچھے اس طرح کے واقعات عام ہیں۔اداکارہ کے مطابق کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کی جانب سے یہ پیشکش بھی کی جاتی ہے کہ ’یہ کرلو تو تمہیں کام مل جائے گا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ طاقتور افراد کی طرف سے اداکاروں پر کام کے لیے دباؤ بھی ڈالا جاتا ہے، شوبز ایک ایسی دنیا ہے جہاں حسین چہرے اور پرکشش شخصیات موجود ہوتی ہیں، اسی لیے اس کا تاریک پہلو بھی بہت نمایاں ہے اور لوگ اس کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ٹیکسالی گیٹ‘ کی اسٹار اور بیرون ملک مقیم پاکستانی فنکارہ مہر بانو نے انکشاف کیا ہے کہ فنکاروں کو کام دینے کے عوض بڑی بڑی ڈیمانڈز اور ناجائز مطالبات کیے جاتے ہیں، اور اس انڈسٹری میں اکثر لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی ہراسانی کا سامنا کرتے ہیں۔پروگرام کے دوران ایک نوجوان کے سوال پر مہر بانو نے اعتراف کیا کہ جیسے ہر انڈسٹری کے سیاہ پہلو ہوتے ہیں، ویسے ہی شوبز میں بھی فنکاروں کو طاقتور لوگوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا رہتا ہے اور کام دلانے کے عوض ان سے نامناسب مطالبات کیے جاتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اس انڈسٹری میں خوبصورت چہرے اور دلکش شخصیات کی موجودگی کے باعث لوگ آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں اور ہراسانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔اداکارہ نے مزید کہا کہ ’’اکثر لڑکے یا لڑکیاں دونوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘، جو صنعت میں جنس کی بنیاد پر ہونے والے استحصال کی جانب ایک اہم اشارہ ہے۔ ان کے بقول، یہ مسئلہ صنعت کا ایک ایسا سیاہ پہلو ہے جس پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں