ڈکی بھائی کے کروڑوں روپے ضبط، جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع۔۔

لاہور کی مقامی عدالت نے مشہور یوٹیوبر سعدالرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع کری۔عدالت نے ڈکی بھائی کے ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع کرتے ہوئے انہیں مزید دو دن تک نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی حراست میں رکھنے کی منظوری دی۔این سی سی آئی اے نے ڈکی بھائی کو دو روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی، اس لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع دی جائے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں۔عدالت نے ایجنسی کو ہدایت کی کہ وہ یوٹیوبر کے خلاف اپنی تفتیش جلد از جلد مکمل کرے۔ڈکی بھائی نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایجنسی اپنی تحقیقات مکمل کرے اور ریمانڈ میں توسیع پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔گزشتہ سماعت کے دوران مجسٹریٹ محمد نعیم وٹو نے این سی سی آئی اے کی درخواست پر ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع دی تھی۔ایجنسی نے اس ضرورت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سعدالرحمٰن سے قبضے میں لیے گئے الیکٹرانک آلات کی جاری تفتیش اور فرانزک جانچ مکمل کرنا ضروری ہے۔ڈکی بھائی کے وکیل، ایڈووکیٹ چوہدری عثمان علی نے توسیع کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ مالی ریکارڈز بغیر حراست کے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں اور سوال اٹھایا کہ سعدالرحمٰن کے اقدامات کا صارفین کو ہونے والے حقیقی مالی نقصانات سے کیا تعلق ہے۔متوقع ہے کہ اس ریمانڈ کے دوران ایجنسی اپنی جاری تفتیش کو حتمی شکل دے گی اور سعد الرحمٰن کو اس توسیعی ریمانڈ کے اختتام پر دوبارہ باضابطہ طور پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ڈکی بھائی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے غیر قانونی جوا ایپلیکیشنز کی پروموشن کی، جس کے تحت ان کے خلاف 17 اگست کی نصف شب این سی سی آئی اے لاہور نے ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔دریں اثنا سینئر صحافی جاوید چوہدری نے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کے اکاؤنٹس کے بارے میں اہم انکشافات کیے ہیں۔اپنے پوڈکاسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ حکام نے ڈکی بھائی کے خلاف جب تفصیلات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا کہ ان کے 6 لاکھ درہم دبئی میں موجود ہیں ۔ پاکستان میں موجود اکاؤنٹس میں 15 کروڑ روپے اور ڈیجیٹل والیٹس میں 3 لاکھ 25 ہزار روپے ملے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی نے یہ ساری رقم حکومتِ پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کروا دی, معاملے کی مزید تحقیقات کے دوران کئی اور لوگوں پر بھی ہاتھ ڈالا گیا، جن میں محمد حسین، اقرا کنول اور مدثر حسین شامل ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں