ڈبنگ پروڈکشن  ہاؤسز کی جانب سے وائس  اوورایکٹرز کا استحصال ۔۔

پاکستان میں ڈبنگ آرٹسٹس ادائیگیوں  کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ پپو کا کہنا ہے کہ صدا کاروں نے بتایا  کہ پروڈکشن ہاؤسز چینلز سے یا ڈیجیٹل ایجنسیز سے فی منٹ کے حساب سے لاکھوں کروڑوں بنا رہے ہیں جبکہ آرٹسٹس کو صرف فی شفٹ کے حساب سے پیمنٹ کی جاتی ہے جو پانچ ہزار سے بھی کم ہے، ایک شفٹ میں پروڈکشن ہاؤسز ایک سے زائد پروجیکٹس کی ڈبنگ کرواتے ہیں جن کے وہ چینلز سے الگ پیمنٹ وصول کرتے ہیں مگر آرٹسٹس کو صرف ایک ہی شفٹ کے پیسے دئیے جاتے ہیں وہ بھی بار بار تقاضا کرنے کے بعد۔۔  پپو کا کہنا ہے کہ پیمرا اور وزیر اطلاعات ونشریات اس جانب توجہ دیں، پروڈکشن ہاؤسز اور آرٹسٹس کے لئیے باقاعدہ کوئِ لائحہ عمل بنایا جاِئے۔ کرایے کی مد میں ہی آرٹسٹس کے آدھے پیسے خرچ ہو جاتے ہیں۔صداکاروں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایف بی آر ان پروڈکشن ہاؤسز پر کڑی نظر رکھے اور ان کے ٹیکس کی جانچ پڑتال کرے۔ آرٹسٹ برادری مایوسی کا شکار ہے اور ایک شفٹ کا کم سے کم معاوضہ دس ہزار کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں