چینلز پر چرب زبانوں کا راج۔۔

تحریر: فرح خان۔۔

ایک وقت تھا جب پی ٹی وی پر صبح ساڑھے سات بجے کے کارٹون، رات آٹھ بجے کا سڑکیں سنسان کر دینے والا ڈرامہ اور نو بجے کا خبرنامہ ہمارے سارے دن کی اینٹرٹینمنٹ ہوا کرتے تھے۔ پھر ایک آندھی چلی اور ٹی وی چینلوں کی بھرمار نے پی ٹی وی کی رونقیں ماند کر دیں۔ گھر گھر کیبل لگنے سے رنگ برنگے ڈراموں اور بریکنگ نیوز کی آوازیں آنے لگیں۔ خبر کی دلچسپی کے معیار بدل گئے۔ ہر آدمی شہر کے مشہور سموسے والے کی رپورٹ اور ہرعورت ساس اور بہو پر نیا وار کرنے کی پلاننگ پر مبنی ڈراموں سے لطف اندوز ہونے لگی۔

نئے پرائیویٹ چینلوں میں صحافت سے وابستہ لوگ بھرتی ہونے لگے۔ کسی نے رپورٹنگ کی کسی نے پروڈکشن اور کسی نے اینکراورہوسٹ کی سیٹ سنبھالی۔ اخباری چہروں کو لوگ کیمروں پر دیکھ کر پہچاننے لگے اور ان کے بیانیے کی بنا پر پسند اور ناپسند کرے لگے۔اور وہ بھی اپنے چاہنے والے پیدا ہونے پر خود کو کسی فلمی ستارے کی مانند گرداننے لگے۔ صرف خبرنامے اور بریکنگ  نیوز کافی نہ رہیں اور پرائم ٹائم کو مختلف ناموں کے ساتھ حالات حاضرہ کے پروگراموں میں تقسیم کر دیا گیا۔ مقابلے بڑھ گئے تو بڑھ چڑھ کے بولنے والوں کی مانگ بڑھ گئی، مانگ بڑھی تو پیسوں کا مطالبہ بھی بڑھ گیا اور ساتھ ہی اپنے نیچے کام کرنے والے چھ سے آٹھ ٹیم کے لوگ ضروری سمجھے جانے لگے۔ ہر خبرکو پہلے بریک کرنے کا کریڈٹ لینا ضروری سمجھا جانے لگا۔ کوئی سیاسی تقریب ہو یا جلسہ، الیکشن، حکومت، اپوزیشن، مہنگائی سے مرتے عوام، بم دھماکے غرضیکہ کسی بھی معاملے پرتمام چینل اپنی اپنی ڈی ایس این جی دوڑا نے لگے۔ وطن عزیز میں یہ آندھی ۲۰۰۰ میں شروع ہوئی اور اس وقت اپنی عروج پر ہے۔ اس آندھی نے چھوٹے چھوٹوں کوبڑا نام دیا اور بڑے بڑے ناموں کو بہت پیسہ۔

اس دور نے دیکھنے والوں کے دلوں اورذہنوں پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ ایکدوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں بے ہنگم بھرتیوں نے جہاں بہت سے لوگوں کو بہت سے مواقعے دیے وہیں معیار اور وقار کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اب اینٹرٹینمنٹ کا معیار ڈراموں میں امیرہونے کے طریقے ہیں اور خبر کا معیار مخالف کی نجی زندگی پر الزام تراشی اور کردارکشی۔

مخالف کو ناک میں چنے چپوانے کے لیے زبان کی تیزی آگے نکلتی چلی گئی اور تہذیب کہیں دور رہ گئی۔ فرمائشی اور پرچیوں پر لکھ کر بھیجے جانے والے نام جگہیں لینے لگے اور میرٹ ہاتھ ملنے لگے۔

اب پڑھے لکھے، مردانہ وجاہت رکھنے والے اور ایک ایک لفظ کو تول کر بولنے والوں کی جگہ صنف نازک سے مشابہ اور منہ سے بات چھین لینے والے چرب زبانوں کا راج ہے اور پڑھی لکھی، ادب اورفنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والیوں کی جگہ چھمک چھلو اور سفارشی خواتین باغ میں ہرن کی طرح دوڑتی نظر آتی ہیں۔  کہاں ہیں وہ علم دوست طارق عزیزجیسے لوگ جن کے انداز بیان پر زمانہ فدا تھا۔ ہے کوئی عشرت فاطمہ جس کی آواز اور انداز کا آج بھی کوئی ثانی نہیں۔ ناپید ہوگئے یہ سارے لوگ۔

 دلوں پر چھا جانے اور پیسے کی ہوس نے سب معیار غرق کر دیے۔ محنت کرنے والوں کی جگہ خوشامد کرنے والے لے بیٹھے۔ شکلوں نے عقلوں کو مات دے دی اور ضروتمندوں کے چولہے ٹھنڈے ہونے لگے۔ اور نوبت یہ ہے کہ بات اب خود کشی تک پہنچ گئی ہے۔(بشکریہ چہرہ نیوز)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں