anjanay kis ne arsh e ilahi hiladia

چڑھتے سورج کی سرزمین پر ڈھلتی شام ایک مجلس  

تحریر: امجد عثمانی۔۔

چڑھتے سورج کی سرزمین شکرگڑھ میں 22سال بعد برپا یہ ایک پروقار صحافتی تقریب تھی،جہاں صحافیوں کے مرکز لاہور سے کوئی قد آور صحافی مہمان خصوصی تھا۔۔۔ڈھلتی شام تقریب کے دوران میں ماضی میں کھو گیا۔۔۔مجھے 2003کی ایک گرم دوپہر کی یاد شدت سے آئی جب میں منفرد کالم نگار جناب تنویر عباس نقوی کو بطور خاص شکرگڑھ لے کر گیا تھا۔۔۔ہمارے ساتھ  برادرم رانا ابرار حسین بھی تھے۔۔۔ نقوی صاحب تب جناب علی احمد ڈھلوں کے شام کے اخبار “روزنامہ مقابلہ”کے جوائنٹ ایڈیٹر۔۔۔میں چیف نیوز ایڈیٹر اور رانا صاحب سب ایڈیٹر تھے۔۔۔۔یہ سفر تب شکرگڑھ پریس کلب کے نو منتخب صدر ملک یونس کی خواہش پر تھا کہ ان کا ارمان تھا کہ نقوی صاحب تقریب سے خطاب کریں تو محفل کو چار چاند لگ جائیں۔۔۔موصوف نقوی صاحب کے مداح بھی تھے۔۔۔۔نقوی صاحب ایسے ہی مقناطیسی آدمی تھے۔۔۔۔ان کے الفاظ اور جملے بھی قارئین کو اپنی جانب کھینچ لیتے تھے۔۔۔۔تب ملک میں پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کے گونج تھی۔۔۔نارووال کے ضلع ناظم کرنل جاوید صفدر کاہلوں نے نو منتخب عہدیداروں سے حلف لیا جبکہ نائب ضلع ناظم برادرم حافظ رضوان مسعود بھی سٹیج پر جلوہ افروز تھے۔۔۔حلف برداری کے بعد جناب تنویر عباس نقوی نے شاندار خطاب کیا۔۔۔تب جناب ظفر اللہ جمالی وزیر اعظم تھے اور انہوں نے اسی روز قومی ذرائع ابلاغ کو “زرد صحافت”کا طعنہ دیا تھا۔۔۔کبھی “زرد صحافت” اور” لفافہ صحافت” کا طعنہ عام ہوا کرتا تھا۔۔۔۔اخبار نویس سیاستدانوں سمیت جس” عالی جاہ”کے بھی “کالے کرتوت” بے نقاب کرتے تو وہ جواب میں” زرد صحافت”یا “لفافہ صحافت” کی گردان شروع کر دیتا۔۔۔نقوی صاحب نے شکرگڑھ سے واپس پر ایک دھواں دھار کالم بھی لکھا جس کا عنوان تھا”ہاں میں پیلی سیاہی سے لکھتا ہوں”۔۔۔انہوں نے اس کالم میں جمالی حکومت کے “عیوب” پر تاک تاک کر نشانے لگائے اور تکرار کے ساتھ لکھا” ہاں میں پیلی سیاہی سے لکھتا ہوں”۔۔۔۔سوچتا ہوں 22سال میں چہروں کے سوا کچھ بھی نہیں بدلا۔۔۔۔حکومتوں کے وہی عیوب اب بھی حسن کہلا رہے ہیں۔۔۔۔عوام ماتم کناں ہیں اور حکمران جشن منا رہے ہیں۔۔صحافیوں کو دشنام کہنے کا بھی  وہی چلن عام ہے۔۔اور تو اور صحافیوں کے رویے بھی نہیں بدلے ۔۔۔۔تقسیم در تقسیم ہے ۔۔

مجھے یاد ہے کہ شکرگڑھ پریس کلب میں یہ تقریب حلف برداری مدت بعد ہوئی تھی کیونکہ وہاں تین چار نامہ نگار جنگل کے بادشاہ بنے ہوئے تھے اور اپنے علاوہ کسی کو صحافی نہیں مانتے تھے۔۔۔پھر کچھ ملک یونس سمیت نوجوان نامہ نگاروں نے اس “نظام کہن” کو ناں کہی اور کئی سال بعد پریس کلب کا الیکشن ہوا تو جشن کا سماں تھا۔۔شنید ہے کہ اب “انہی انقلابیوں” میں کچھ “بوسیدہ نظام” کے سوداگروں سے مل کر آج کے نوجوان صحافیوں کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔۔۔برسوں پہلے کی طرح منتخب کے بجائے چنتخب طریقے سے پریس کلب کا نظام چلایا جا رہا ہے۔۔۔ان میں ایک انقلابی دوست کو دیکھ کر وہی تاریخی جملہ کہا جاسکتا ہے کہ بروٹس تم بھی۔۔۔۔!!!یہ وہی ہمہ جہت دوست ہیں جو 22سال پہلے نظام کہن کے ایک سوداگر کے ساتھ “سرخ لکیر” کھینچتے تھے لیکن سنا ہے آج کل دونوں میں گاڑھی چھنتی ہے۔۔۔۔لیکن سوال ہے کب تک۔۔۔۔؟قدرت کا یہ نظام ہی نہیں کہ نظام کہن دیر تک چلے۔۔

22سال بعد شکرگڑھ میں  صحافتی تقریب کا ایک اور ہی رنگ تھا کہ یہ مجلس ایشیا کے خوب صورت ترین لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری کو تمغہ امتیاز کے لیے نامزدگی پر ملک کے خوب صورت مشرقی شہر میں سجی تھی۔۔۔ہوا یوں کہ اس سال جولائی میں لاہور کے ایک ہوٹل میں ایک ظہرانے کے دوران میرے پہلو میں تشریف فرما “یاران شکرگڑھ “کے تاحیات چیئرمین جناب مرزا سرور بیگ نے سرگوشی کی کہ ارشد انصاری کو شکرگڑھ کی دعوت دیں کہ وہاں بیٹھ کر بھی تمغہ امتیاز کا جشن منائیں ۔۔۔ارشد انصاری نے یہ دعوت قبول کر لی۔۔۔دورے کی بات چلی تو شکرگڑھ کے سر سید ڈاکٹر حافظ شبیر نے میزبانی کی پیش کش کردی اور ان کے ساتھ ساتھ شکرگڑھ کے معتبر سیاسی خاندان کے چشم و چراغ جناب فیصل منظور تاج بھی ہمارے میزبان بن گئے۔۔۔۔اسی طرح شکرگڑھ کے سب سے ذائقہ دار ریسٹورنٹ کے مالک جناب محمد عرفان بھی شریک میزبان ٹھہرے ۔۔۔جناب ارشد انصاری کی قیادت میں لاہور کے صحافیوں کے 15رکنی وفد نے” تقریب جشن” سے پہلے کرتار پور راہداری کا دورہ بھی کیاجہاں پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے افسر جناب راجہ کامران نے بڑے تپاک سے خوش آمدید کہا اور انتہائی معلوماتی وزٹ کرایا۔۔اسی طرح وفد نے شکرگڑھ کے سرحدی قصبے بڑا بھائی مسرور میں صاحب کرامت صوفی بزرگ خواجہ عبدالسلام چشتی کے مزار پر حاضری دی اور وہ جگہ بھی دیکھی جہاں سورج کی پہلی کرن ہندوستان سے پاکستان میں داخل ہوتی اور جہاں سے پاکستان کا معیاری وقت لیا جاتا ہے۔۔۔پاکستان اور بھارت کے درمیان وقت میں آدھے گھنٹے کا فرق ہے کہ جب ہندوستان میں صبح کے سات بج رہے ہوتے ہیں تو پاکستان میں صبح کے ساڑھے چھ کا وقت ہوتا ہے۔۔۔وفد کے لیے یہ ایک دلچسپ مشاہدہ تھا۔۔۔معدوم ہوتے گائوں دین پناہ کو حکومت کی توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔وزیر منصوبہ بندی اس جانب نگاہ کرم فرمائیں تو یہ مقام سیاحتی مرکز بن سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔وفد میں لاہور پریس کلب کے سینئر نائب صدر افضال طالب،پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل قمر الزمان بھٹی،سابق نائب صدر امجد عثمانی،سینئر صحافی محمد عبداللہ،ڈاکٹر خالد منہاس،عمران علی نومی،ظہیر شہزاد،عمر حفیظ، سید فرزند علی، فواد بشارت، رانا خالد قمر، محمد اکرم،ڈاکٹر عمران بھٹی اور کلب کے ڈپٹی منیجر محمد عقیل شامل تھے۔۔۔لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری کی تمغہ امتیاز کے لیے نامزدگی پر شکرگڑھ میں تقریب جشن کے دونوں میزبانوں سے دو دہائیوں پر محیط دوستی کا اٹوٹ انگ رشتہ ہے ۔۔۔جناب ڈاکٹر حافظ شبیر احمد اور جناب فیصل منظور تاج ایڈووکیٹ نے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے۔۔۔۔حافظ صاحب ڈینٹل سرجن ہیں اور ضلع نارووال میں سب سے بڑے نجی تعلیمی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔۔۔۔فیصل منظور تاج تحصیل بار کے سابق صدر ہیں۔۔۔۔۔حسن اتفاق کہ ہمارے میزبان آج سے بائیس تئیس سال پہلے بھی ایک ساتھ تھے اور آج بھی ایک ساتھ ہمارے مہربان ٹھہرے۔۔۔۔ مشرف آمریت کے بام عروج میں ن لیگ کے پلیٹ فارم سے جرات رندانہ سے الیکشن لڑے اور ہم میڈیا محاذ پر ان کے شانہ بشانہ تھے۔۔۔۔فیصل صاحب تب  مقتدرہ کی جماعت ق لیگ کے قومی اسمبلی کے امیدوار جناب دانیال عزیز کے خلاف میدان میں اترے جبکہ حافظ صاحب ڈاکٹر طاہر علی جاوید کے مدمقابل ٹھہرے۔۔۔۔پھر دونوں ساتھ وہی ہوا جو برے وقت کے دوستوں ساتھ اچھے وقت میں ابن الوقت لوگ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں کی قدربڑھی اور قد بھی ۔۔۔۔فیصل نے وکلا سیاست میں نام کمایا جبکہ حافظ صاحب تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔۔لاہور پریس کلب کے وفد کے دورہ شکرگڑھ کے دوران جہاں جناب حافظ شبیر احمد اور جناب فیصل تاج۔۔۔۔جہاں مرزا سرور بیگ اور جناب محمد عرفان ایسے میزبانوں نے مہمان نوازی کا حق ادا کردیا وہاں شکرگڑھ کے صحافیوں نے بھی لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری کے لیے پلکیں بچھادیں۔۔شہزاد حنیف،علی رضا اور عرفان خالد خان کی قیادت میں محمد رمضان،میاں شاہد اقبال،مرزا اسلام,حافظ عرفان رضا،غلام محی الدین، چوہدری فہد یعقوب،سرمد یعقوب،زوہیب شیخ ،مرزا اسلام،حسن شیخ ،محمد متاع قادری ،میاں شاہد ندیم ،رانا مہران الہی ، خالد سیف، محمد یاسین زمان،حاجی صابر،محمد آصف جمال ،طارق امین سلطانی، حافظ ندیم اور ملک قدیر ،حافظ شبیر احمد کے مہمان بن کر سٹیج کے سامنے بیٹھے۔۔۔پورے انہماک سے گفتگو سنی ۔۔۔۔یہی نہیں انہوں نے حافظ صاحب کے ساتھ وفد کا استقبال بھی کیا اور الوداع بھی کہا۔۔۔انہوں نےصدر لاہور پریس کلب کو تلوار سے مزین سوونئیر کا تحفہ بھی دیا۔۔۔نارووال کے اکلوتے دانشور اخبار نویس بزرگوارم ملک سعید الحق بھی دورہ شکرگڑھ کے دوران ہمارے مہربان تھے۔۔۔کیا ہی بااعتبار اور باوقار آدمی ہیں۔۔۔۔روزنامہ خبریں کےپہلے دن سے ڈسٹرکٹ رپورٹر ہیں۔۔۔جناب ضیا شاہدکے زمانے میں ڈائریکٹر بھی رہے لیکن کوئی ایک زرد خبر ان کے کھاتے میں نہیں۔۔۔باوفا ایسے کہ جس کے ساتھ محبت کی پھر یہ عہد وفا نبھایا۔۔۔۔چاہے وہ جناب احسن اقبال ہوں یا چن پیر شاہ صاحب ۔۔۔۔۔اتنے باوفا کہ نیک نام کالم گار جناب رفیق ڈوگر مرحوم  نے برسوں پہلے اپنے ایک کالم میں انہیں چن پیر کا وہابی مرید قرار دیا تھا ۔۔۔جس کا مطلب ہے کہ ملک صاحب اہل حدیث مکتب سے تعلق رکھتے ہیں اور چن پیر صاحب اہل سنت ۔۔۔۔۔کبھی ہمارے لوگ ایسے ہی اعتدال پسند ہوا کرتے تھے۔۔۔۔پھر نفرت کا وہ الائو بھڑکا کہ ناموس رسالت قانون کی محرک آپا نثار فاطمہ کے صاحب زادے احسن اقبال کو انہی کے دھرتی کے ایک شدت پسند نوجوان نے گولی مار دی۔۔۔۔بات ہو رہی تھی ملک صاحب کی میزبانی کی تو شیڈول یہ تھا جناب ارشد انصاری کی قیادت میں صحافیوں کا وفد رات کا کھانا نارووال جمخانہ کلب میں تناول فرمائے گا لیکن ملک صاحب کی دعوت بوجوہ موخر کرنا پڑی کہ صدر صاحب کو سات بجے واپس لاہور پہنچنا تھا کہ ان کی فیملی میں ایک دو شادیاں تھیں۔۔۔۔میں نے ملک صاحب سے معذرت چاہی اور ان سے درخواست کی وہ شکرگڑھ میں ہی حافظ شبیراحمد اور فیصل تاج کے زیر انتظام استقبالیے کی صدارت فرمائیں تو مجلس کی رونق دوبالا ہو جائے گی۔۔۔۔ملک صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے مان رکھا اور برادرم اعظم خاور ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا۔۔۔۔صدر ارشد انصاری نے بھی اپنے خطاب میں ملک صاحب سے معذرت چاہی اور کہا ملک صاحب تہانوں کھانے دی چھوٹ نئیں ملے گی اور کسی دن نارووال آکے تہاڈے کولوں کھانا کھاواں گےجس پر ملک صاحب نے قہقہہ لگایا اور کہا خوش آمدید۔۔۔۔صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے شکرگڑھ کے صحافیوں کو اتحاد کا درس دیا اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جس شہر میں ایک سے زیادہ پریس کلب ہیں وہ سب دکانیں ہیں۔۔بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی کہ جناب اعظم خاور نے لقمہ دیا کہ شکرگڑھ کو چھوڑیں نارووال میں 10پریس کلب ہیں۔۔۔بہر حال ارشد انصاری نے پیش کش کی کہ اگر نارووال کے صحافی  ایک ہو جائیں ،تو میں یہاں صحافی کالونی  بنوا کر دوں گا۔۔۔انہوں نے ملک سعید الحق کو مخاطب کرکے کہا کہ ضلع نارووال کے صحافیوں کو ایک کرنے  کا بیڑہ اٹھائیں۔۔۔اس مشن کے لیے جب بھی بلائیں گے، میں حاضر ہوں گا۔۔دیکھتے ہیں ملک سعید الحق صاحب جناب ارشد انصاری کوصحافیوں کی” متحدہ مجلس” کے عشائیے پر کب بلاتے ہیں؟؟؟(امجد عثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں