پاکستان کے انگریزی زبان کے نیوز چینل پی ٹی وی ورلڈ کو دوبارہ فعال کرنے اور اس کی نئی شکل دینے کے لیے بنائے گئے شاندار منصوبے خاموشی سے دم توڑ گئے ہیں۔ جرنلزم پاکستان ڈاٹ کام کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ حکومت نے اب روایتی ٹی وی چینل کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ مئی میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھی اور بھارتی میڈیا نے جھوٹی خبریں پھیلانا شروع کیں، تو پاکستانی حکام نے عالمی سطح پر مؤثر جواب دینے کے لیے پی ٹی وی ورلڈ کو ایک بین الاقوامی معیار کا چینل بنانے کا منصوبہ پیش کیا۔لیکن یہ منصوبہ جلد ہی ناکامی کا شکار ہوگیا۔پی ٹی وی ورلڈ، جو 2011-12 میں لانچ ہوا تھا، شروع سے ہی ناقص انتظامیہ اور مالی خسارے کا شکار رہا ہے۔ حکومت اسے دنیا میں پاکستان کی بہتر تصویر پیش کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی تھی۔سینئر صحافی طلعت حسین کو اس منصوبے کی سربراہی کے لیے مدعو کیا گیا۔ اگرچہ وہ ابتدا میں حکومتی ملازمت لینے سے ہچکچا رہے تھے، لیکن بعد میں چھ ہفتے کے مشیر کے طور پر کام کرنے پر راضی ہوگئے تاکہ بھرتیوں، منصوبہ بندی اور لانچنگ میں مدد فراہم کریں۔ایک بڑا بجٹ منظور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ چینل کا دفتر پی ٹی وی ہیڈکوارٹر کے بجائے اسلام آباد کے ایچ 9 سیکٹر میں واقع سابقہ ایس ٹی این عمارت میں ہوگا۔ پی ٹی وی یونین نے ابتدا میں اس منتقلی کی مخالفت کی لیکن بعد میں آمادہ ہوگئی۔کل 446 افراد کی بھرتی کا منصوبہ تھا، جن میں 45 صرف انتظامیہ کے لیے تھے۔ ناقدین نے اس پر اعتراض کیا کہ ایک ہی چینل کے لیے اتنی بڑی تعداد ضرورت سے زیادہ ہے، خاص طور پر جب پورا ہم نیٹ ورک اتنے ہی ملازمین کے ساتھ کام کر رہا ہے۔چیف ایڈیٹر کی آسامی کے لیے اتنی بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئیں کہ آن لائن نظام کریش کر گیا اور ڈیڈ لائن میں دو دن کی توسیع کرنی پڑی۔ اگرچہ طلعت حسین نے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نئی حکمت عملی دی، لیکن کامیابی نہ ملی۔ پچھلے ہفتے انہوں نے چھ ہفتوں کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔اب صحافی نمود مسلم پی ٹی وی ورلڈ کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چینل کی ازسرنو تشکیل کا منصوبہ ترک کر دیا گیا ہے اور پی ٹی وی ورلڈ غالباً ویسا ہی رہے گا جیسا ہےیعنی ایک بوجھل اور بیمار ادارہ۔۔
