bijli ke mein ptv fees khatam karne ka faisla

پی ٹی وی میں 11 اینکرز کی غیرقانونی تقرریاں۔۔۔

ریاستی نشریاتی ادارے پی ٹی وی میں  اینکرز کی تقرری اور ادائیگیوں کے حوالے سے وفاقی آڈیٹرز نے مبینہ مالی اور طریقۂ کار کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے، جس کے بعد سرکاری فنڈز سے چلنے والے اس ادارے میں شفافیت اور داخلی نگرانی کے نظام پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔یہ نتائج آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں شامل ہیں، جنہیں صحافی سعدیہ مظہر نے اپنے ویلاگ میں اجاگر کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ  اینکرز کی تقرری سے متعلق معلومات کے لیے دائر کی گئی متعدد حقِ معلومات درخواستوں کا  خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔آڈیٹرز نے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن میں لین دین،بھرتیوں کے طریقہ کار  کا جائزہ لیتے ہوئے ایسے معاملات کی نشاندہی کی جہاں اینکرز کو باضابطہ معاہدوں، اوپن آڈیشن یا تحریری کارکردگی جانچ کے بغیر تعینات کیا گیا، اور اس کے مالی اثرات کروڑوں روپے تک بتائے گئے۔آڈٹ رپورٹ کے پیرا نمبر 40، بعنوان “من پسند بنیادوں پر اینکرز کا انتخاب اور بغیر معاہدے ادائیگیاں”، کے مطابق پی ٹی وی سی کو مبینہ طور پر 8 کروڑ 47 لاکھ 29 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 11 اینکرز کو باضابطہ معاہدوں کے بغیر اور کھلے مقابلے یا دستاویزی جانچ پڑتال کے بغیر تعینات کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ تقرری سے قبل ان کی سابقہ کارکردگی، ناظرین کی طلب، عوامی اثرات اور آمدنی میں اضافے جیسے عوامل کا جائزہ نہیں لیا گیا اور نہ ہی قانونی معاہدے کیے گئے۔رپورٹ میں جن اینکرز کے نام شامل ہیں ان میں عمر اسلم (2022 سے اب تک 51 لاکھ روپے)، سید عمران شفقت (89 لاکھ روپے)، فہیم گوہر بٹ، کومل سلیم (2024 میں تقرری، 48 لاکھ روپے سے زائد)، رضوان الرحمان (87 لاکھ روپے سے زائد)، امین حفیظ (2024 میں تقرری، 87 لاکھ روپے سے زائد)، نجم ولی خان اور بینش سلیم (بالترتیب ایک کروڑ روپے سے زائد اور 16 لاکھ روپے)، عاصم نصیر (54 لاکھ روپے)، وجاہت مسعود (2023 سے 89 لاکھ روپے سے زائد)، اور حسن افتخار (2024 میں تقرری، 30 لاکھ روپے سے زائد) شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ادائیگیاں بغیر باقاعدہ معاہدوں یا طے شدہ کارکردگی معیار کے کی گئیں۔پیرا نمبر 59 میں لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک کرنٹ افیئرز اینکر کے معاملے میں 29 لاکھ 20 ہزار روپے کی زائد ادائیگی کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مس ماریا ذوالفقار خان کو ستمبر 2024 سے اگست 2025 تک ماہانہ 20 پروگرام (10 پی ٹی وی نیوز اور 10 پی ٹی وی ورلڈ) کی میزبانی کا معاہدہ دیا گیا تھا، جنوری تا اپریل 2025 کے دوران۔تاہم آڈٹ کے مطابق انہوں نے طے شدہ 80 پروگراموں کے بجائے 40 پروگرام کیے، مگر اس کے باوجود مکمل معاہدہ شدہ رقم ادا کی گئی اور کوئی کٹوتی نہیں کی گئی، جسے آڈیٹرز نے 29 لاکھ 20 ہزار روپے کی زائد ادائیگی قرار دیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آٹھ نیوز اینکرز کو 3 کروڑ 76 لاکھ 80 ہزار روپے ایسے ادا کیے گئے جن کے پروگراموں کی واضح حد یا کارکردگی کا قابلِ پیمائش معیار موجود نہیں تھا۔ آڈٹ کے دوران جب دستاویزی شواہد طلب کیے گئے تو انتظامیہ مطلوبہ معاون دستاویزات فراہم نہ کر سکی۔اس زمرے میں شامل اینکرز میں نتاشا نصیر (4 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ)، محمد عمران خان (4 لاکھ روپے)، احمد نواز (2 لاکھ 80 ہزار روپے)، محمد حماد حسن (2 لاکھ 50 ہزار روپے)، کاشان اکمل (3 لاکھ 50 ہزار روپے)، راشد یعقوب (4 لاکھ روپے)، یاسر رحمان (5 لاکھ 50 ہزار روپے)، اور ڈاکٹر سجاد بخاری (4 لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ) شامل ہیں۔آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں جہاں مناسب ہو وہاں غیرقانونی ادائیگیوں کی وصولی اور داخلی کنٹرول کے نظام کو مضبوط بنانے، شفاف بھرتی کے طریقۂ کار اپنانے اور باضابطہ معاہدوں کی تکمیل کی سفارش کی گئی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں