ptv qaaseedago ban chuka hai

پی ٹی وی میں گولڈن شیک ہینڈاسکیم پر غور۔۔۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب تک ہم گولڈن شیک ہینڈ نہیں لے کر آتے تب تک چینل نہیں چل سکتا ، سرکاری ٹی وی میں سیاسی بھرتیاں ہیں ،ایک ایک پوسٹ پر پچیس لوگ بھرتی ہوئے ہیں،اب ہم نے پاکستان ٹیلی ویژن میں بہتری لائی ہے،انگلش چینل پر ہم اچھے اینکر لے کر آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ  ہمارے پاس کوئی اچھا چینل ہونا چاہیے ،ہم نے الگ فنانشل ماڈل کے تحت انگلش چینل کو شروع کیا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی پولین بلوچ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کمیٹی کو وزارت کے زیر انتظام اداروں بالخصوص پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) میں جاری اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔وفاقی وزیر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حکومت پی ٹی وی کو ایک میرٹ پر مبنی، مؤثر اور مالی طور پر خود کفیل ادارہ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سفارشات، غیر ضروری تقرریوں اور بدانتظامی کے باعث قومی نشریاتی ادارے کو شدید مسائل کا سامنا رہا، جس کے اثرات آج بھی ادارے کی کارکردگی پر نظر آتے ہیں۔عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ پی ٹی وی میں ملازمین کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ادارے پر مالی بوجھ بڑھا۔ اس ضمن میں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ملازمین کو رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے سے علیحدگی کا موقع دیا جا سکے اور ادارے کی مجموعی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی وی ورلڈ (انگریزی چینل) اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نئے ٹیلنٹ کی شمولیت اور ادارہ جاتی تنظیم نو ناگزیر ہے، تاکہ ناظرین کی تعداد اور اشتہاری آمدن میں اضافہ ممکن ہو۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ کے مصطفیٰ امپیکس کیس کی روشنی میں وفاقی کابینہ نے مختلف قوانین میں ترامیم کی منظوری دی ہے۔ ان ترامیم کے تحت پیمرا آرڈیننس 2002، اخبار ملازمین ایکٹ 1973 اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان آرڈیننس 2002 میں “وفاقی حکومت” کے الفاظ کو مناسب مجاز حکام سے تبدیل کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ وہ اپنے زیر انتظام اداروں میں مستقل سربراہان کی تقرری کا عمل ان کی مدت مکمل ہونے سے کم از کم 30 دن قبل شروع کرے تاکہ عارضی انتظامات کا خاتمہ ہو اور ادارہ جاتی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکین نے وفاقی وزیر کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور پی ٹی وی سمیت دیگر اداروں کو مالی اور انتظامی طور پر مضبوط بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکین، وزارت اطلاعات و نشریات کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں