اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) سے گزشتہ دو سے تین مالی سالوں کے اخراجات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ یہ حکم عدالت نے پی ٹی وی کے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور واجبات کی عدم ادائیگی سے متعلق توہینِ عدالت کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار پنشنرز کی جانب سے سابق ڈائریکٹر ایڈمن ظفراللہ اپنے وکیل وقاص ملک ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران پی ٹی وی حکام نے موقف اختیار کیا کہ واجبات کی ادائیگی کے لیے حکومت کو اضافی گرانٹ کے حصول کے لیے خط لکھا جا چکا ہے، جس پر غور جاری ہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل وقاص ملک ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی وی میں غیر ضروری بھرتیوں اور دیگر مدات میں کروڑوں روپے کے اخراجات جاری ہیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں پی ٹی وی کے تنخواہوں کے بجٹ میں ایک ارب 56 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا، جبکہ اس کے باوجود ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کی شاہ خرچیوں کے باوجود پنشنرز کو محروم رکھا جا رہا ہے اور صرف ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن نہ دینے کے لیے مختلف بہانے تراشے جا رہے ہیں۔وقاص ملک ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کوئی قانونی نکتہ باقی نہیں رہا اور پی ٹی وی انتظامیہ محض ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عدالتی حکم کے خلاف دائر تمام اپیلیں خارج ہو چکی ہیں اور کہیں سے بھی حکمِ امتناع حاصل نہیں کیا گیا، اس کے باوجود عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر عدالتی حکم پر عمل نہ کیا گیا تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، حتیٰ کہ انہیں جیل بھیجا جائے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پی ٹی وی حکام سے پوچھا جائے کہ آیا وہ شاپنگ بیگ میں کپڑے ساتھ لائے ہیں یا نہیں۔درخواست گزار کے وکیل کی استدعا پر عدالت نے پی ٹی وی سے گزشتہ تین سال کے مالی اخراجات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی۔
