وفاقی وزارت داخلہ کے حکام نے وزارت اطلاعات کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پیکا کے تحت 9 صحافیوں جبکہ عام شہریوں کے خلاف 689 مقدمات درج کئے گئے۔ جس پر عرفان صدیقی نے پوچھا کہ صحافیوں کیخلاف کیسوں کی کیا تفصیلات ہیں اور ان صحافیوں کے خلاف کیسوں کی نوعیت کیا ہے۔حکام نے بتایا کہ جن 9 صحافیوں کے خلاف مقدمات درج ہیں ان میں 7 پاکستان میں نہیں ہیں، راولپنڈی میں عادل راجا اور عمران ریاض پر ریاست کے خلاف موقف اپنانے پر درج کئے گئے، گوجرانوالہ میں شہزاد رفیق کے خلاف شہری کی درخواست پر مقدمہ درج ہوا، سوشل میڈیا پر عزت اچھالنے پر شہری نے درخواست دی تھی۔وزارت داخلہ کے حکام نے مزید بتایا کہ اسلام آباد سے احمد نورانی،صابر شاکر، معید پیرزادہ، محمد وحید (وحیدمراد)کے خلاف ریاست مخالف بیانیہ چلانے پر مقدمات درج کئے جب کہ کراچی میں بھی فرحان ملک کے خلاف کارروائی کی گئی، جو ابھی ضمانت پر ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے مکمل معلومات نہ ہونے اور غلط بیانی پر وزارت داخلہ حکام کی سرزنش کی، ان کا کہنا تھا کہ ہم صحافیوں کیخلاف کارروائیوں کے حق میں نہیں ہیں، اگلی کمیٹی میں تمام تفصیلات پیش کی جائیں۔قائمہ کمیٹی نے چاروں صوبوں کے آئی جیز سے تفصیلات مانگ طلب کرلی۔
