peca ke khilaaf sahafio ka jail bharo tehreek par ghour

پیکاکے خلاف صحافیوںکا جیل بھرو تحریک پر غور۔۔

 پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر پیکا کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا گیا جس میں ملک کے تمام بڑے شہروں میں پریس کلبز کے باہر صحافیوں، انسانی حقوق اور ٹریڈ یونین تنظیموں کے قائدین اور کارکن شریک ہوئے۔ مظاہرین نے پیکا کے قانون کے فوری خاتمہ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر حکومت نے اس قانون کے خاتمے کے لئے اقدامات نہ کئے تو پھر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ایف ای سی میں اپنا لائحہ عمل دے گی۔ پی ایف ہوجے سمیت جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور تمام سٹیک ہولڈر زپی ایف ہوجے ساتھ ملکر مشترکہ جدوجہد کا اعلان کریں گی۔لاہور میں پیکا ایکٹ کے خلاف پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پی ایف ہوجے کے سیکرٹری جنرل اور صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیکا کا یہ کالا قانون صحافیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کے آزادی اظہار کے حق پر شدید حملہ ہے، یہ صحافیوں کے خلاف ڈیتھ وارنٹ ہی نہیں ہے بلکہ ملک کے پچیس کروڑ عوام کے گلے کا پھندہ اور زبان بندی کا قانون ہے ،اگر حکومت نے اس قانون کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامات نہ کیے تو پھر پی ایف ہوجے عید کے بعد اپنی ایف ای سی کا اجلاس کرے گی جس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سمیت انسانی حقوق کمیشن ، پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی سمیت تمام سٹیک ہولڈر زاور پریس کلبز کو دعوت دی جائے گی جس کے بعد اس قانون کے خاتمہ کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔انھوں نے خبردار کیا کہ جن حکومتی وزراءاور سیاستدانوں نے پیکا ایکٹ کا جو گڑھا کھودا ہے وہ خود بھی اس میں گریں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کالے قوانین کے خلاف پی ایف یوجے کی ایک تاریخی جدوجہد موجود ہے،ہمارے سینئرز نے جیلیں اور کوڑے تک برداشت کئے ہیں اور ہم بھی اس پیکا قانون کے خاتمے کی تحریک کے لئے آخری مرحلے کے طور پر جیل بھرو تحریک چلانے پر بھی غور کر رہے ہیں اور جیلوں میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ ارشد انصاری نے کہا کہ جن میڈیا ہاؤسز نے عید سے قبل تنخواہیں ادا کر دی ہیں ان کا شکریہ مگر جنہوں نے ابھی تک تنخواہیں ادا نہیں کیں ان کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور ان کے میڈیا ہاؤسز کا گھیراؤ کیا جائے گا ۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا کہ پی آئی او آفیسر مبشر حسن نے گرشتہ ڈھائی سال سے ایک عجیب نوعیت کا مافیا قائم کر رکھا ہے، اس نے گھوسٹ اور جعلی ایڈورٹائزنگ ایجنسیز قائم کر رکھی ہیں جن کے ذریعے یہ میڈیا ہاؤسز کو اشتہارات کی بندر بانٹ کرتے ہیں اور ڈالرز میں پیسے اوپر تک پہنچاتے ہیں جبکہ یہی صورتحال ڈی جی پی آر پنجاب غلام صغیر شاہد نے قائم کر رکھی ہے، یہ پنجاب میں فرعون بنا ہوا ہے ، سینئر صحافیوں سے ایک محض کارڈ جاری کرنے کے لئے ان سے تجربہ پوچھتا ہے۔ انہوں نے وزیر اطلاعات عظمی بخاری سے کہا کہ ایسے فرعون صفت آفیسر کو فوری ہٹایا جائے جو حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیںاور اگر انہیں عید کے بعد فوری طور پر ہٹایا گیا تو ہم انہیں بے نقاب کریں گے۔ انھوںنے کہاکہ وفاقی و صوبائی محکمہ اطلاعات میں بیٹھے مافیا نے میڈیا ہاؤسز کے اشتہارات کی مد میں چودہ ارب روپے سے زیادہ کے بقایا جات دبارکھے ہیں اور الٹامیڈیا ہاؤسز کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جاتاہے ، ابھی ہمارے دباؤ پر ڈیڑھ سے دو ارب روپے میڈیا ہاؤسز کو جاری کئے گئے جس سے کارکنوں تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوئی ۔ انھوں نے کہاکہ اگر میڈیا ہاؤسز کے واجبات ادانہ کئے گئے تو پھر کارکنوں کو تنخواہیں کہاںسے ملے گی اس لئے حکومت واجبات کی ادائیگیاں فوری یقینی بنائے ۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں پی ہوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا کہ اس وقت پیکا کا قانون ریاست بچاؤ بیانیہ سے آگے نکل کر کرپٹ بیورو کریسی بچاؤ اور اداروں میں بیٹھے رشوت خور ملازمین کو بچانے اور ان کی خبر وائرل کرنے والے شہریوں اور صحافیوں کے خلاف پیکا کے تحت مقدمات میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس کالے قانون کو شہریوں اور آزادی صحافت پر سنگین حملہ قرار دیا اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا میڈیا ہاؤسز میں نہ صرف تنخواہیں یقینی بنائی جائیں بلکہ تمام صحافیوں کو ویج ایوارڈ کے مطابق تنخواہ ادا کی جائے۔ مظاہرین سے پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر خواجہ نصیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس قانون کے خلاف پارلیمانی صحافی، پی ایف ہوجے اور پی یوجے کے ساتھ ہیں اور ہم ایوانوں میں اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی شریک چیئرپرسن منیزے جہانگیر نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے باعث بنیادی انسانی حقوق سلب ہوئے ہیں اور پاکستان کی بطور جمہوری معاشرہ پہچان پر سیاہ دھبہ لگا ہے،ایسے قوانین کی موجودگی میں ریاست عوام کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ نہیں چل سکتی،کالا قانون ریاستی دہشت گردی ہے۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے بھی پیکا کے قانون کو جمہوری پاکستان کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ حکومت اس قانون کو فوری طور پر ختم کرے۔ سینئر صحافی امتیاز عالم نے کہا کہ پیکا کے قانون کے باعث اب ریاست کے اندر کالی بھیڑیں اس قانون کی آڑ میں شہریوں کے حق اظہار رائے اور آزادی تحریر کے حق کو چھین کر لوٹ مار اور کرپشن کے بازار کو گرم کررہے ہیں مگر حکومتی ادارے عوام کو تحفظ نہیں دے رہے اب ریاستی مشینری عوام کے وسائل پر حملہ آور ہے جو پاکستان کی ریاست پر بھی حملہ ہے۔ حقوق خلق پارٹی کے رہنما فاروق طارق، پی ایم اے رہنما ڈاکٹر اشرف نظامی ، ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن کے رہنما مجیب فاروق ، ایف ای سی کے رکن شفیق اعوان ، ایچ آر سی پی کے نائب صدر راجہ اشرف , فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر وسیم نیاز ، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے سیکرٹری عدنان شیخ ، ذوالفقار علی مہتو ، عرفان مفتی ، پی ہوجے کے خزانچی نسیم قریشی، جمال احمد ، وقار ملک ، پرویز الطاف ، سول سوسائٹی پاکستان کے عبداللہ ملک ،پاکستان سپورٹس فیڈریشن کے صدر اقبال ہارپر، ممبر ایف ای سی اعجاز مقبول اور مخدوم بلال،دین محمد درد ، رفیق خان ،جاوید ہاشمی ، تنویر ملک ، محمد بابر ، سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر صحافیوں نے آزادی صحافت کے حق میں اور پیکا کے خلاف شدہ نعرے بازی کی۔ مظاہرے کے دوران صحافیوں نے اپنے ہاتھوں میں علامتی ہتھکڑیاں بھی پہن رکھی تھیں۔ مظاہرے کے آخر میں سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی نے کہا کہ پنجاب یونین آف جرنلسٹس پی ایف ہوجے کاہر اول دستہ ہے جو کال پی ایف یوجے دے گی اس میں بھرپور شریک ہوں گے اور اب اس قانون کے خلاف اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر دما دم مست قلندر ہوگا۔ انہوں نے تنخواہوں کی ادائیگی میں بھرپور کردار ادا کرنے پر پی یوجے کے صدرر نعیم حنیف کی طرف سے سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے ارشد انصاری کا شکریہ بھی ادا کیا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں