پہلا گانا 13 سال کی عمرمیں گایا،عتیقہ اوڈھو پر فلمایاگیا، شبنم مجید۔۔

ماضی کی مقبول گلوکارہ شبنم مجید نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں متعدد بار فلموں سمیت ڈراموں میں کام کی پیش کش ہوئی جب کہ ایک بار وہ ٹیلی فلم کی شوٹنگ چھوڑ کر واپس آگئیں۔شبنم مجید نے 1990 کے بعد گلوکاری کا آغاز کیا، ان کی آواز میں لولی وڈ کی متعدد فلموں میں گانے شامل کیے گئے، جنہیںکافی پذیرائی بھی ملی۔گلوکارہ کی آواز میں گائے گئے گانے ریما، میرا، ریشم، صائمہ اور عتیقہ اوڈھو سمیت دیگر اداکاراؤں پر بھی فلمائے گئے۔حال ہی میں شبنم مجید نے مزاحیہ پروگرام ’مذاق رات‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر سمیت ذاتی زندگی پر بھی کھل کر بات کی۔گلوکارہ نے بتایا کہ انہوں نے کبھی یک طرفہ محبت نہیں کی اور یہ کہ وہ یک طرفہ محبت کو وقت کا نقصان سمجھتی ہیں۔ان کے مطابق انہوں نے پیار ہوجانے پر اپنی پسند کے شخص موسیقار سے شادی کی اور اب ان کے بچے جوان ہوچکے ہیں۔شبنم مجید نے بتایا کہ انہیں بچپن سے گلوکاری کا شوق تھا، انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) سے گلوکاری کا آغاز کیا اور کم عمری میں ہی ایوارڈز بھی جیتے۔گلوکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی موسیقی کے مقبول ترین موسیقاروں، گلوکاروں اور نغمہ نگاروں کے ساتھ کام کیا، جس وجہ سے انہیں جلد شہرت ملی۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے محض 13 سال کی عمر میں پہلا فلمی گیت گایا جو کہ اس وقت عتیقہ اوڈھو پر فلمایا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں متعدد بار ڈراموں اور فلموں میں کام کی پیش کش ہوئی لیکن انہوں نے اداکاری کو مشکل کام سمجھ کر پیش کشوں کو مسترد کیا۔ان کے مطابق سید نور نے بھی انہیں فلم میں کام کی پیش کش کی جب کہ پرویز ملک نے انہیں ایک ٹیلی فلم لازمی کرنے کا کہا، جس پر وہ رضامند بھی ہوئیں لیکن شوٹنگ سیٹ سے واپس آگئیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت ان کا بچہ چھوٹا تھا اور وہ بچے سمیت شوٹنگ سیٹ پر گئی تھیں، جہاں انہیں کئی گھنٹے گزر گئے لیکن شوٹنگ شروع نہ ہوسکی، جس پر وہ تنگ آکر ہدایت کار سے معافی مانگ کر واپس آگئیں اور انہوں نے اداکاری نہ کرنے کا تہیہ کیا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں