پٹرول مافیا کا چھکا

تحریر: عبدالوحید جیلانی۔۔

 دنیا کے مختلف خطوں میں اس وقت جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔ ان جنگوں سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے اور کس کو نقصان، اس پر دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عالمی حالات کا اثر جب پاکستان تک پہنچتا ہے تو اس کا سب سے بڑا بوجھ عام آدمی کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ خصوصاً جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

پیٹرول مہنگا ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹرانسپورٹ مہنگی، اشیائے خورونوش مہنگی اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مہنگی۔ آج یہی صورتحال ملک کے مختلف حصوں میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ لوگوں کو خدشہ ہے کہ شاید قیمتیں مزید بڑھ جائیں۔

عید قریب آ رہی ہے اور خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہر  سے ہر سال ہزاروں خاندان اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں۔ مگر ایسے مواقع پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اچانک اور بے تحاشا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ مسافر پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہوتا ہے اور اوپر سے کرایوں میں یہ اضافہ اس کی مشکلات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روٹی، نان، چپاتی اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھنے لگتی ہیں۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اس صورتحال میں کون جائز فائدہ اٹھا رہا ہے اور کون ناجائز۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی خبر آتی ہے، بازاروں میں من مانی قیمتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جو چیز کل تک ایک قیمت پر دستیاب تھی، وہ اچانک مہنگی ہو جاتی ہے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں، جو عوام کو ریلیف دینے کے لیے بنائی جاتی ہیں، اکثر عملی طور پر کہیں نظر نہیں آتیں۔ عام دنوں میں بھی ان کی کارکردگی واضح نہیں ہوتی اور رمضان جیسے بابرکت مہینے میں بھی عوام کو ان سے زیادہ امید نہیں رہتی۔

اس تمام صورتحال کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے جس پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔ وہ ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشکلات۔ اگر پیٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں اور سپلائی محدود ہو جائے تو اس کا اثر صرف عام شہری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پولیس جیسے اداروں پر بھی پڑے گا۔ مثال کے طور پر کراچی پولیس کو پہلے ہی  پیٹرول محدود مقدار میں ملتا ہے۔ اگر یہی صورتحال مزید خراب ہو گئی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس کی گشتی موبائلیں کس طرح سڑکوں پر نکلیں گی؟ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں کس طرح جاری رہیں گی؟

کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ڈکیتی، رہزنی اور دیگر جرائم کے خلاف پولیس کی گشت نہایت ضروری ہوتی ہے، وہاں اگر گشتی موبائلوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی تو اس کے اثرات براہِ راست امن و امان کی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔ جرائم کے خلاف کام کرنے والی پولیس پارٹیاں اور گشت کرنے والی موبائلیں اگر ایندھن کی کمی کا شکار ہو جائیں تو اس کا فائدہ یقیناً جرائم پیشہ عناصر کو پہنچ سکتا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کو صرف معاشی زاویے سے نہیں بلکہ انتظامی اور سماجی زاویے سے بھی دیکھا جائے۔ قیمتوں میں اضافہ اگر ناگزیر بھی ہو تو اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی وہ وسائل فراہم کیے جائیں جن کی بدولت وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے ادا کر سکیں۔

آخر میں دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے، اس ملک کے حالات میں بہتری لائے اور ہمیں ایسے فیصلے کرنے کی توفیق دے جو عوام کے لیے آسانی اور انصاف کا سبب بنیں۔ کیونکہ اگر معاشرے میں انصاف اور اعتدال قائم ہو جائے تو نہ صرف مہنگائی کا بوجھ کم محسوس ہوتا ہے بلکہ امن اور سکون بھی قائم رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ رکھے اور ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین۔(عبدالوحید جیلانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں