میٹا کے پاس واٹس ایپ جانے کے بعد صارفین کے سیکیورٹی ایشوز بڑھ گئے۔۔ واٹس ایپ ہیک، بلاک اور ہنگنگ عام ہونے لگی۔بدھ کے روز کراچی پریس کلب کے کئی اراکین کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کرلیاگیا، جس میں آصف راٹھور، عادل ظفر وغیرہ شامل ہیں، جب کہ کئی صحافیوں نے واٹس ایپ ہیک کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔۔نامعلوم افراد واٹس ایپ نمبر ہیک کر کے شہریوں کو میسیج اور کالیں کرتے ہیں، اور ان سے ہمدردی کے طور پر یا کسی پارسل کے نام پر پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی سائبر کرائم کنٹرول ایجنسی ملک میں آن لائن فراڈ کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام دکھائی دیتی ہے۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے ان کے ساتھ فراڈ ہوا انہوں نے سائبرکرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو بتایا تو انہوں نے آن لائن شکایت وصول کرنے سے انکار کردیا۔ کراچی کی ایک خاتون صحافی نے بتایا ان کو فون پر پارسل وصول کرنے کی کال آئی اور او ٹی پی مانگا گیا ۔۔ او ٹی پی نہ دینے پر انھیں دھمکیاں دی گئیں اور نازیبا الفاظ استعال کیے گئے۔ جب انہوں نے سائبر کرائم کنٹرول سے بات کی تو انہوں نے آن لائن شکایت درج کرنے سے صاف انکار کردیا اور ہدایت دے ڈالی کہ آپ کراچی آفس میں جائیں۔ خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ وہ آفس میں ڈیوٹی چھوڑ کر کیسے جاسکتی ہیں۔ دنیا بھر میں آن لائن شکایات درج کی جاتی ہیں اور اس کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ سائبر کرائم کنٹرول کرنے والا ادارہ خود سائبر بیسڈ ہی نہیں اس جدید دور میں مینول کام کروا رہا ہے۔ بلا آخر ایک ویب پیج دیا گیا جہاں شکایت کیے ہوئے ایک ماہ سے زائد ہوچکا ہے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ دوسری جانب متعدد افراد کے ساتھ ایک ہی نمبر سے فراڈ ہورہا ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے 03418654476 اس نمبر سے انھیں ان کے قریبی دوستوں کے واٹس ایپ نمبروں سے میسیج آ رہے ہیں کہ آپ جلدی سے 50 ہزار روپے بھیج دیں بہت ضرورت ہے۔ یقینی طور پر کچھ دوست اپنے دوستوں کو پیسے بھیج دیتے ہیں جن کے پیسے لوٹ لیے جاتے ہیں ۔ مزید تفصیل معلوم کرنے پر پتہ چلتا ہے وہ میسیج اس کے دوست نے کیا ہی نہیں تھا۔ کراچی سمیت ملک بھر میں آن لائن فراڈ زوروں پر ہے لیکن سائبر کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، ایف آئی اے اور متعلقہ ادارے کوئی کارروائی نہیں کررہے۔ ان تمام اداروں کی نظریں صرف بڑے یا وی آئی پیز پر لگی ہوتی ہیں صرف ان کی شکایات پر کارروائی ہوتی ہے عام شہری کی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یہ ادارے عام شہریوں کے لیے بنے ہی نہیں صرف چند بڑے ، بااثر ، پیسے والے یا اختیارات والے لوگوں کے لیے بنے ہوئے ہیں جبکہ انھیں تنخواہیں اور اخراجات عام شہری کے ٹیکس سے دیے جاتے ہیں۔۔ آن لائن فراڈ کی وجہ سے جائز طریقے سے آن لائن کاروبار کرنے والے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ سائبر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے اس رویے سے شہریوں میں مزید بددلی پیدا ہورہی ہے۔
