social media naya sahafati platform

پریس کلب اور ہماری ذمہ داریاں، اہم سوالات

تحریر: سید بدرسعید۔۔

لاہور پریس کلب کے ممبران کی بڑی تعداد پریس کلب کو فیملی کلب دیکھنا چاہتی ہے ۔ وہ گالم گلوچ ، بدتمیزی ، دھمکیوں اور کسی کی بھی عزت نفس مجروح کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے ۔ ممبران چاہتے ہیں کہ یہ فیملی کلب ہو اور مہنگائی کے اس دور میں ہمارے پاس ایسا مقام ہو جہاں صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہماری فیملی ، ہمارے بچے بھی آوٹنگ کر سکیں اور اپنا اچھا وقت گزارا سکیں ۔

یہ ماحول ہمارے مجموعی کردار سے بنے گا ۔ کوئی بھی پسند نہیں کرے گا کہ اس کی فیملی موجود ہو اور قریب ہی  کوئی شخص کسی دوسرے کو گالی بک رہا ہو یا بدتمیزی کر رہا ہو ۔

ہر سال الیکشن کے سیزن میں ایسا ماحول بن جاتا ہے کہ ہم سارا سال اس خوف کا شکار رہتے ہیں کہ یہ نفرتیں کسی بھی دن ظاہر ہو سکتی ہیں

ہم ابھی تک یہ نہیں سوچ رہے کہ صحافیوں کی بڑی تعداد لاتعلق کیوں ہوتی جا رہی ہے ؟ جنرل کونسل میں انتہائی کم تعداد کیوں ہوتی ہے ؟

پونے تین ہزار ممبران الیکشن کے روز بھی اکٹھے کیوں نہیں ہوتے ۔ کلب میں سارا سال آنے والوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر دو تین سو سے زیادہ کیوں نہیں ہے ۔  کیا کلب بطور مرکز ناکام ہو رہا ہے ؟ یا کوئی اور وجہ ہے ؟

یہ وہ سوال ہیں جن پر ہمیں سائنٹفک انداز میں سوچنا ہے ۔ کیونکہ ان سوالات کے پیچھے مسائل ہیں ۔

شاید برا لگے لیکن سچ یہی ہے کہ پریس کلب میں وہ والا “کلب ماحول”  نہیں بن پایا جو جم خانہ کلب ، کاسمو کلب ، گیریژن یا فالکن کلب میں ہے ۔ سبسٹدی ہے لیکن سکون کیوں نہیں ہے؟ سال کے دوران بھی  ممبران بے سکونی ، عدم اعتماد ، ٹینشن اور کھنچے اعصاب کے ساتھ ہی کیوں نظر آتے ہیں ؟

کیا کلب محض چند لوگوں کی چراہ گاہ ہے ؟  کیا چند لوگ امیر اور طاقتور ہوتے رہیں گے اور باقی سسک سسک کر عالم غربت میں مرتے رہیں گے ؟کیا یہ ایک مکمل سٹڈی نہیں کہ پچھلےپانچ سال میں وفات پانے والوں میں کتنے صحافی خوش اور خوشحال تھے ؟ کتنے فیصد صحافی ہارٹ اٹیک ، بلڈ پریشر ، کینسر اور برین ہیمرج کا شکار ہوئے ؟ وفات پانے والے کتنے صحافیوں کی عمر 70 سال سے زائد تھی ۔ کتنے 60 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے وفات پا گئے ۔ کتنے بیماریوں اور ٹینشن میں مرے اور کتنوں نے  حقیقی طبعی موت پائی ؟

سچ یہ ہے کہ پریس کلب ممبران کی ایک بڑی تعداد بےروزگاری کا شکار ہو چکی ہے اور باقی تیزی سے ہو رہے ہیں ۔ ایک کے بعد ایک ادارہ بند ہو رہا ہے ۔ بےروزگاری ، میڈیا کے برے حالات ، سیلری لیٹ اور سیلری کٹ کا شکار ہر گروپ کا سپورٹر ہے اور اس کا کوئی حل ابھی تک ہم تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ جو اس بےروزگاری میں کسی اور پراجیکٹ یا کام میں پناہ لینے کی کوشش کرے اس کے سر پر ممبر شپ معطلی کی تلوار لٹک جاتی ہے ۔ کیا کسی ادارے میں تین ماہ تک  کام نہ کرنا اور اداروں میں ملازمتیں پیدا ہی نہ ہونے میں فرق نہیں  ہے ؟

مجھے لگتا ہے اس حوالے سے بھی قوانین کو دوبارہ دیکھنا چاہیے

میری درخواست ہے کہ ان مسائل کا کوئی مستقل حل تلاش کیا جائے ۔ یہ کام یوجیز کا ہے لیکن فی الوقت اس کے لیے بھی ہمارے پاس پریس کلب ہی مرکز ہے

میں سمجھتا ہوں کہ خبر اور کہانی کی ڈیمانڈ کبھی ختم نہیں ہوتی  صرف پریزنٹیشن تبدیل ہوتی ہے ۔   کبھی ڈھول بجا کر خبر سنائی جاتی تھی اور چوپال میں داستان گوئی تھی ۔ اب وہی خبر ٹیکر اور کہانی فیچر سٹوری میں بدل گئی۔ کیا ہم خبر اور فیچر کی نئی پریزنٹیشن  کا انداز سیکھ پائے ہیں ؟ یوٹیوب کا تھمب نیل اخبار کی سرخی ہی نہیں ہے ؟ اور یہ کام نیوز روم والوں سے بہتر کون کر سکتا ہے ؟

میں جتنے ممبران سے ملا ہوں ، ان کے مسائل اور گفتگو سنی ہے ، جتنا سمجھنے کی کوشش کی ہے اس کے بعد  ایک بار پھر پورے اعتماد سے  دعویٰ کر رہا ہوں کہ عام کارکن کے مسائل کچھ اور ہیں ۔ کارکن صحافی دھمکی ، گالی ، جبر ، بلیک میلنگ اور دھوکے کی سیاست نہیں چاہتے ۔ وہ صرف اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پریشان ہیں ۔ اس سال الیکشن کو ٹینشن کی بجائے فیسٹیول بنا لیں ۔ سخت سوال ، احتساب ، تعریف ، تنقید ، مکالمہ ، سپورٹ اور مخالفت ضرور کریں لیکن  اس سب سے “گالی” نکال دیں ۔ سیاسی گروپس سے  کمیونٹی کے مجموعی مسائل کے حل کا ایجنڈا مانگیں ۔(سید بدرسعید)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں