تحریر: عمران ملک۔۔
’’پی ٹی وی ورلڈ‘‘ کا نام بدل کر ’’پاکستان ٹی وی‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کا بیانیہ پہنچایا جا سکے۔ نام کی تبدیلی اچھی لگتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف نام بدلنے سے ادارے نہیں بدلتے۔ اصل ضرورت سوچ کی تبدیلی ہے۔
پی ٹی وی میں دہائیوں سے ایک مافیا بیٹھا ہے جو ہر حکومت کے وزیر اطلاعات کو سبز باغ دکھا کر اپنے بجٹ پاس کراتا ہے۔ وزراء بدلتے رہتے ہیں مگر یہ پرانے چہرے اپنی کرسیاں نہیں چھوڑتے۔ خبریں ہوں، اسپورٹس ہوں، ڈرامے ہوں، Sales، Programming اور Current Affairs—فیصلے انہی کے ہاتھ میں ہیں۔
فواد چوہدری نے ڈیجیٹل پی ٹی وی کی کوشش کی مگر اپنی ہٹ دھرمی اور پرانے ’کاریگر‘ لوگوں نے انہیں ناکام کر دیا۔ شبلی فراز کو بھی کچھ نہ کرنے دیا گیا۔ دوسری طرف، مریم اورنگزیب نے بڑی چالاکی سے لاہور کے اپنے من پسند اینکرز کو آگے بڑھایا۔ اس سے انہوں نے پارٹی کا اثر تو بڑھایا مگر عوامی اعتماد کھو دیا۔
اب نئے نام ’’پاکستان ٹی وی‘‘ کے سربراہ بنائے گئے عادل شاہزیب، جن کے پروگرام کبھی بڑی ریٹنگز نہ لا سکے۔ مگر طاقتور حلقوں کی قربت نے انہیں آگے کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیانیہ اہل ہاتھوں میں ہے؟
افسوس یہ ہے کہ کبھی پی ٹی وی نے وارث، ان کہی، تنہائیاں اور اندھیرا اجالا جیسے شاہکار دیے تھے۔ آج وہ معیار کیوں نہیں؟ نجی چینلز یوٹیوب سے کروڑوں کما رہے ہیں اور پی ٹی وی تنزلی کا شکار ہے۔ صرف پی ٹی وی اسپورٹس کے سہارے نوکریاں بچائی جا رہی ہیں۔
ڈھانچہ موجود ہے، چینلز بھی ہیں، لیکن تخلیقی سوچ غائب ہے۔ یونینز رکاوٹ ہیں، پرانے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کرسیوں پر قابض ہیں، نئی نسل کو موقع نہیں دیا جا رہا۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی نیا ہٹ ڈرامہ سامنے نہیں آتا۔
وزیراعظم صاحب، اصل چیلنج نیا نام نہیں بلکہ نئی سوچ ہے۔ میرٹ پر فیصلے کیجیے، نئی آوازوں کو جگہ دیجیے، اور پرانے نظام کو بدلنے کی جرات دکھائیے۔ ورنہ یہ صرف پرانا مشروب نئی بوتل میں ہی رہے گا۔
ادارے نام سے نہیں، سوچ سے بدلتے ہیں۔ اگر سوچ وہی پرانی رہی تو ’’پاکستان ٹی وی‘‘ بھی چند دنوں کی خبر اور پھر بھولی بسری یاد بن جائے گا۔
