پاکستان میں صحافت کا حال

تحریر: حسنین اخلاق۔۔

پاکستان میں صحافت کی تاریخ پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی المناک فلم دیکھ رہے ہوں، لیکن بیچ بیچ میں ڈائریکٹر نے مزاحیہ مناظر بھی ڈال دیے ہوں تاکہ ناظرین زیادہ بور نہ ہوں۔ یہ فلم اٹہتر برس سے چل رہی ہے، یہاں قوم کے لئے ہیرو کبھی جرنیل ہوتا ہے تو کبھی جمہوری وزیراعظم، اور ولن ہمیشہ ایک ہی ہوگا یعنی صحافی۔

ہمارے ہاں صحافت کا حال ایسا ہے جیسے بارات میں بینڈ والے کو کھانا ہی نہ ملے، بس باجا بجاؤ دن رات اور آخر میں ”اچھا ویرا، دعا دیندے جانڑا“۔ آمریت کے دنوں میں تو صحافی کی زندگی یوں گزرتی تھی کہ صبح دفتر آکر پہلے یہ دیکھنا پڑتا کہ کون سا لفظ آج غداری کے زمرے میں آئے گا اور کون سا بغاوت میں۔ شام کو دفتر سے نکلتے وقت یہی سوچتے تھے کہ گھر جائیں گے یا سیدھا جیل۔

جمہوریت آنے پر صحافیوں کو لگا کہ اب آزادی کا سورج طلوع ہوا ہے، لیکن جلد ہی یہ پتا چلا کہ یہ سورج بھی سیاستدانوں کی مرضی کا یو پی ایس ہے جو کبھی بھی جل سکتا ہے، اور بجلی آنے سے پہلے دو تین “اشتہاری بریک” تو لازمی لینا ہوں گی۔ جمہوری حکومتوں نے صحافت سے وہی سلوک کیا جو شادی کے بعد شوہر اپنی بیوی کے مشوروں سے کرتا ہے۔ مسکرا کر سنتا ہے لیکن کرتا اپنی ہی ہے۔

صحافی کی سب سے بڑی کامیابی یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ “مزیدار خبر” نکال لے۔ مگر ہمارے ہاں مزے کا مطلب کچھ اور ہے۔ آمریت میں مزے کی خبر وہ ہے جو شائع نہ ہو سکے، اور جمہوریت میں وہ جو اشتہار کے ساتھ شائع ہو۔ اور اگر آپ نے واقعی ایمانداری سے رپورٹنگ کی تو یا تو آپ کو “قومی سلامتی” کے نام پر چپھ (پکڑ) لیا جائے گا، یا آپ کی تنخواہ کے ساتھ ایسا مذاق ہوگا کہ آپ کو لگے گا اخبار نہیں، کسی “بیگار کیمپ” میں کام کر رہے ہیں۔

ہمارے جرنیل صحافت کو ایسے کنٹرول کرتے ہیں جیسے کوئی ماں اپنی مرضی سے رات کی دال میں بھی مرچ کم کرکے نصیحت کرے کہ بیٹا، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ورنہ تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی۔ جمہوری حکمران بھی یہی مشورہ دیتے ہیں، بس مرچ کی جگہ “خبر” اور طبیعت کی جگہ “نوکری” ڈال دیں۔

اب حال یہ ہے کہ پاکستان میں صحافت کا جنازہ نکالنا ہو تو ہر حکومت اور ہر جرنیل اس میں شرکت پر فوری راضی ہوگا۔ ایک کہے گا “ہم نے آزادی دی تھی، یہ خود مر گئی”، دوسرا بولے گا “ہم نے تو سانس لینے کی اجازت دی تھی، یہ چیخ کیوں رہی تھی؟”۔ میڈیا مالکان بھی کندھا دینے کو تیار ہیں، بس شرط یہ ہے کہ میت والی چارپائی اور راستے میں اشتہار لگانے کی اجازت ہو۔ہمارے یہاں صحافی کا حال وہی ہے جو پرانے زمانے کے مسخرے کا ہوتا تھا یعنی بادشاہ کو ہنسانا بھی ہے، اور اتنا ہنسنے بھی نہیں دینا کہ بادشاہ کو یاد آ جائے کہ تم نے پچھلے دن اس کے بارے میں کیا لطیفہ سنایا تھا۔(حسنین اخلاق)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں