پاکستان حوالگی، شہزاد اکبر،عادل راجہ کا ردعمل۔۔

شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی پاکستان واپسی کیلئے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی کوششوں اور برطانوی ہائی کمشنر کو کاغذات حوالے کرنے کے حوالے سے اپنے ردعمل میں سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے  سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بڑھتی ہوئی آمرانہ سیاست، غیر آئینی ترامیم اور عسکری تعیناتیوں پر موجودہ تعطل کے بارے میں میری تحریروں، ویڈیوز اور سیاسی تبصروں نے موجودہ حکومت کو شدید ناراض کیا ہے۔جین میریٹ اور ایف سی ڈی او (فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس) کو ٹیگ کرتے ہوئے انہوں نے مزید لکھا کہ جیسا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں، میرے خلاف بدترین انتقامی کارروائیاں کی جا چکی ہیں، جن میں پاکستان میں میرے خاندان کے افراد کا اغوا اور یہاں برطانیہ میں مجھ پر تیزاب پھینکنے کا حملہ بھی شامل ہے۔ دوہزارتئیس میں  شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ میں ان کے گھر کے باہر تیزاب جیسا مادہ پھینکا گیا تھا، گزشتہ سال انہوں نے حکومتِ پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کی تھی، جس پر پاکستانی دفترِ خارجہ نے ان کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ برطانوی حکام قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھیں گے۔دوسری جانب عادل راجا نے شہزاد اکبر کے ردعمل پر کہا کہ پاکستانی حکومت کی دنیا بھر میں شہرت اس کی ناکام معیشت، بدعنوانی اور ناقص حکمرانی سے واضح ہوتی ہے، جن کا ذکر حالیہ آئی ایم ایف رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ برطانوی ہائی کمشنر کے سامنے ہماری شکایت کریں تو کریں لیکن ایسی شکایت برطانوی قوانین کے تحت خود غیر قانونی ہے کیونکہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا۔شہزاد اکبر اور عادل راجا دونوں طویل عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہیں، عادل راجا سابق فوجی افسر ہیں، انہیں کچھ عرصہ قبل لندن کی ہائی کورٹ کی جانب سے ایک سابق پاکستانی خفیہ افسر پر بے بنیاد الزامات لگانے پر 3 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ ہر جانے اور قانونی اخراجات کی مد میں ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔شہزاد اکبر بھی اپنا یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، جہاں وہ پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں