پاکستان اور امریکہ کا رومانس

تحریر: محمد حماد متین۔۔

جب دو ممالک ایک دوسرے کو نہ چھوڑ سکتے ہوں، نہ پوری طرح قبول کر سکتے ہوں، تو سمجھ جائیں کہ یہ کوئی عام تعلق نہیں، بلکہ “بین الاقوامی عشق” ہے۔ پاکستان اور امریکہ کا رشتہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔۔ نہ دوستی، نہ دشمنی، بلکہ “پالیسی والی محبت”۔

شروع میں امریکہ نے پاکستان کو دیکھا اور کہا: “تم تو ہمارے لیے فرنٹ لائن اتحادی ہو!”

پاکستان نے مسکرا کر جواب دیا: “اور تم ہمارے لیے ڈالرز کے ساتھ ساتھ ویزے کے خواب ہو!”

کچھ عرصہ سب اچھا چلا ، امداد آئی، وعدے ہوئے، تصاویر بنیں۔ پھر امریکہ نے سوال اٹھایا: “تم چین کے قریب کیوں ہو رہے ہو؟”

پاکستان نے کندھے اچکا کر کہا: “بھئی، تم ہر وقت ناراض رہتے ہو، چین تو کم از کم سنا تو کرتا ہے!”

ہر بار جب پاکستان کو مشکل پیش آئی، امریکہ نے فوراً “تشویش کا اظہار” کیا،کیونکہ تشویش اظہار کرنا سستا اور سفارتی ہوتا ہے۔

اور جب امریکہ کو کچھ چاہیے ہوتا، تو پاکستان سے کہتا: “دیکھو، اگر تم نے ہماری بات نہ مانی، تو ہمیں تمہیں نظرانداز کرنا پڑے گا صرف دو ہفتے کے لیے!

دونوں کی یہ آنکھ مچولی دہائیوں سے جاری ہے۔ کبھی امریکہ ناراض ہو کر آئی ایم ایف کو فون کرتا ہے، اور کبھی پاکستان غصے میں روس یا چین کی طرف مڑ کر دیکھنے لگتا ہے۔ مگر آخرکار کوئی نہ کوئی میٹنگ، کوئی کانفرنس، یا کوئی “مشترکہ مفاد” ایسا آ جاتا ہے کہ دونوں پھر قریب آ جاتے ہیں۔

یہ رشتہ اصل میں شادی نہیں، بلکہ کورٹ شپ ہے۔۔ہر بار نئے مطالبات، ہر بار نئی شرائط، اور ہاں، ہر بار نیا فوٹو سیشن۔(محمد حماد متین)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں