پاکستانی صحافی کیلئے ایک اور عالمی اعزاز۔۔

پاکستانی صحافی عدنان عامر کی مئی 2025 میں بھارت–پاکستان فضائی تصادم پر رپورٹ کو نِکئی ایشیا کی جانب سے سال بھر میں جنوبی ایشیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبر قرار دیا گیا۔عامر نے جرنلزم پاکستان کو بتایا کہ متعدد بڑی پیش رفتوں کے باوجود ان کی رپورٹ نے قارئین میں غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ مئی کے بحران کے دوران پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ لڑاکا طیاروں کے استعمال کے ذریعے بھارتی طیارے مار گرائے جانے پر میری رپورٹ، 2025 میں نِکئی ایشیا کی جنوبی ایشیا سے سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبر بنی۔اس خبر میں اُس لمحے کی تفصیل بیان کی گئی جب بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرینہ کشیدگی کھلے تصادم میں بدل گئی۔ رپورٹ میں دکھایا گیا کہ پاکستان کے چینی ساختہ جے-10 سی (J-10C) طیاروں نے فضائی جھڑپوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے اور خطے میں فضائی طاقت سے متعلق قائم تصورات کو چیلنج کیا۔ رپورٹ نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ان دفاعی حصولیات کے براہِ راست جنگی نتائج کو بھی اجاگر کیا۔عامر کے مطابق ان کی خبر اس لیے گونج پیدا کر سکی کہ اس نے محض جھڑپ تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ وسیع تر اثرات کا جائزہ لیا۔ اس میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ہمسایہ ممالک کے درمیان بازدارانہ توازن، خطے میں فضائی طاقت کے توازن میں تبدیلی، اور بیرونی فوجی سپلائرز کے تزویراتی اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔ قارئین کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ ان پیش رفتوں کی روشنی میں جنوبی ایشیا میں آئندہ بحران کس طرح سامنے آ سکتے ہیں۔اس خبر کا اثر محض قارئین تک محدود نہ رہا۔ بھارتی میڈیا اینکر پلکی شرما (فرسٹ پوسٹ) نے رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے جانبدار قرار دیا اور الزام لگایا کہ غیر ملکی ادارے کشمیر تنازعے کو فریم کرنے کے لیے پاکستانی صحافیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے بعد عامر کو منظم آن لائن حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ان کی ساکھ پر سوال اٹھانے اور رپورٹ کو من گھڑت قرار دینے والے پیغامات شامل تھے۔عامر نے زور دیا کہ خبر کا ہر پہلو تصدیق شدہ تھا۔ ان کے مطابق یہ جائزہ کہ  پاکستان کے جے-10 سی طیاروں نے بھارتی طیارے، جن میں ایک رافیل بھی شامل تھا، مار گرائے—اس کی تصدیق امریکی اور فرانسیسی انٹیلی جنس ذرائع نے کی۔ یہ قیاس آرائی یا رائے نہیں تھی بلکہ متعدد آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ حقائق پر مبنی صحافت تھی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں