خصوصی رپورٹ۔۔
پارلیمنٹرینز کمیشن فار ہیومن رائٹس نے ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کے لیے قومی سطح پر نئی کوششوں کی اپیل کی ہے جہاں تمام مذاہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے شہری مساوی بنیادوں پر معاشرے میں حصہ لے سکیں۔ برداشت اور احترام کے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے پارلیمنٹرینز کمیشن فار ہیومن رائٹس نے زور دیا کہ معاشرتی ہم آہنگی اور قومی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب کسی کو پیچھے نہ چھوڑا جائے .
میڈیا بریفنگ سے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پی سی ایچ آر چوہدری محمد شفیق پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر جناب افضل بٹ ، رکن صوبائی اسمبلی سندھ جناب مہیش کمار ،حسیجہ، محترمہ صفیہ ،قادر ، ایڈووکیٹ، تارا چند ایڈووکیٹ اور معروف اقلیتی کارکن نے خطا ب کیا۔ پالیسی سازوں ارکان پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کو پاکستان کے بانی وژن کا دوبارہ دعوی کرنا ہے جیسا کے قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے تاریخی 11 اگست 1947 کو ایک ایسے ملک سے خطاب میں کیا تھا جہاں مذہب ایک ذاتی معاملہ رہے گا اور ہر شہری کو پاکستان کے شہری کے طور پر مساوی حقوق حاصل ہوں گے ۔
محترم شفیق چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان کا آئین مساوات اور شمولیت کے تحفظ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا آرٹیکل 25 اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور قانون کے یکساں تحفظ کے حقدارہیں اور مذہب، ذات جنس رہائش یا جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیاز کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 27 یقینی بناتا تمام شہریوں کو مذہب سے قطع نظر سرکاری عہدوں اور سول سروس تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ آرٹیکل 36 مزید یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاست اقلیتوں کے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کرے ۔ انہوں نے زور دیا کہ ان آئینی یقین دہانیوں کے باوجود نظامی رکاوٹیں مساوی شرکت میں حائل ہیں اور سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے
(S.M.C. No. 1 of 2014)
پر مکمل اور موثر عمل درآمد ناگزیر ہے، کیونکہ اس میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق واضح ہدایات موجود ہیں۔ اگر ان ہدایات پر صحیح معنوں میں عمل ہوتا، تو ملک خصوص ا سندھ میں اقلیتوں کی حالت زار میں واضح بہتری آچکی ہوتی اور انہیں تحفّظ وقار اور مساوی شمولیت میسر آتی۔
بریفنگ میں خطاب کرتے ہوئے محترم مہیش کمار نے وعدوں اور عملی اقدامات کے درمیان موجود خلا کی نشان دہی کی اور کہا کہ اقلیتیں بدستور مساوی مواقع سے منظم انداز میں محروم رکھی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اقلیتوں کے لیے سرکاری شعبے میں مختص پانچ فیصد کوٹہ بڑی حد تک پورا نہیں کیا گیا اور مخصوص نشستوں میں سے ستر فیصد سے زیادہ تاحال خالی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ متعدد اقلیتی شہریوں کو ان کی اہلیت کے باوجود صفائی ستھرائی جیسے کاموں تک محدود رکھا جاتا ہے اور بعض اشتہارات میں واضح طور پر انہیں کم درج کی آسامیوں تک محدود کیا جاتاہے۔
تعلیم کے حوالے سے محترم مہیش نے کہا کہ تقریبا ساٹھ فیصد اقلیتی طلبہ امتیازی سلوک کی شکایت کرتے ہیں-جس میں داخلے سے انکار، کلاس روم میں علیحدگی اور اپنے عقیدے سے غیر متعلق مذہبی مضامین پڑھنے پر مجبور کرنا شامل ہے۔ سندھ میں چوالیس فیصد اقلیتی بچے اسکول سے باہر ہیں، جب کہ قومی اوسط ستائیس فیصد ہے جو ساختی اخراج کی نمایاں مثال انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹیوں میں اقلیتوں کے لیے مختص نشستیں اکثر مالی رکاوٹوں، آگاہی کی کمی اور کمزور نفاذ کے باعث پوری طرح استعمال نہیں ہو پاتیں ، جس سے اعلی تعلیم اور پیشہ وران ترقی کے راستے محدود ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ : یہ اعداد و شمار مطالبہ کرتے ہیں کہ مساوات اور شمولیت کو آئینی وعدے سے بڑھا کر زندہ حقیقت بنایا جائے ۔
محترم افضل بٹ، صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ان واقعات پر روشنی ڈالی جن میں معتدل آوازوں کو خاموش کیا گیا۔ ان کے مطابق ایک ایسا معاشرہ جو آزادی اظہار کو محدود کرتا ہے وہ نہ تو مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کر سکتا اور نہ ہی کسی شہری کے حقوق کی ۔ نیشنل کمیشن برائے انصاف و امن سے شہزاد آشر نے اعتراف کیا کہ ریاست نے کچھ مثبت اقدامات کیے ہیں جیسے اقلیتی امتحان کا انعقاد اور تیاری کے کورسز کی فراہمی تاکہ مسابقتی امتحانات میں بہتر طور پر CSS امیدواروں کے لیے علیحدہ حصہ لے سکیں۔ تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے اقدامات کو ادارہ جاتی شکل دے کر وسعت دی جائے اور انہیں وسیع تر ساختی اصلاحات کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ دیرپا شمولیت ممکن ہو سکے۔
مقررین نے جبری تبدیلی مذہب اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے بار بار ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ستمبر 2024 میں ہونے والے ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے معاملے کا حوالہ دیا – ایک ڈاکٹر جن پر مبینہ طور پر توہین مذہب سے متعلق مواد پوسٹ کرنے کا الزام لگایا گیا اور بعد ازاں پولیس کے ایک مبینہ جعلی مقابلے میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ ان واقعات سے اقلیتوں کی سیاسی بیگانگی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ ریاستی اداروں پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بے اعتمادی کے اس خلا کو پر کرنے کا واحد راسته ،شفاف، فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہیں اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
مزید یہ کہ میڈیا اور صحافیوں سے کہا گیا کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے مسائل کو ذمہ داری کے ساتھ اجاگر کریں، ان کی آواز کو تقویت دیں اور پاکستان کی ترقی میں ان کی مثبت خدمات کو سامنے لائیں۔ ایسی کوریج تعصبات کو توڑنے اور زیادہ سمجھ بوجھ اور شمولیت کے فروغ میں مدد دے سکتی ہے۔ مقررین نے دہرایا کہ شمولیت صرف اقلیتی حقوق کے تحفظ کا نام نہیں بلکہ سب کے لیے ایک مضبوط، منصفانہ اور متحد پاکستان کی تعمیر ہے۔
دیگر نے اس موقع پر بات کی ان میں محترمہ روما صباحت ( ایم پی اے محترم مکیش کمار چاوله ( ایم پی اے)، جناب شام سندر ( ایم پی اے) اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے کوارڈینتر جناب چندن ملہی بھی شامل تھے۔
مقررین نے درج ذیل فوری اقدامات پر زور دیا
- اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ 2014 کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد اس کی باقاعدہ نگرانی کے ساتھ کیاجائے
اقلیتوں کے لیے سرکاری شعبے میں پانچ فیصد ملازمت کوٹہ حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے اور سالانہ رپورٹنگ و احتساب یقینی بنایا جائے۔
جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی اور سخت نفاذ۔ تعلیم تک مساوی رسائی امتیازی رویوں کا خاتمہ اور یونیورسٹیوں میں مختص نشستوں کا مکمل استعمال۔ اظہار رائے کی آزادی اور میڈیا کی ذمہ داری کو مضبوط بنایا جائے ، صحافیوں اور اقلیتی آوازوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ عبادت گاہوں میں حفاظتی انتظامات متعارف کرائے جائیں اور اقلیتی املاک پر قبضه روکا جائے ۔
فیصلہ سازی کے عمل میں اقلیتوں کی منصفانہ نمائندگی محض مخصوص نشستوں تک محدود تشدد کے واقعات میں ملوث عناصر کی تفتیش اور مؤثر سزا، خصوصا توہین مذہب کے غلط استعمال سے وابستہ واقعات رہے ۔
تشدد کے واقعات میں ملوث عناصر کی تفتیش اور موثر سزا، خصوصاً توہین مذہب کے غلط استعمال سے وابستہ واقعات میں۔(خصوصی رپورٹ)۔۔
