ٹی وی چینلز پر لیبرقوانین کے نفاذ کی اشد ضرورت

خصوصی رپورٹ۔۔

متعدد نجی ٹیلی ویژن نیوز چینلز، جن میں آج نیوز،تھری سکس فائیو وغیرہ شامل ہیں کے ورکرز کو طویل عرصے سے تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا ہے۔۔ جبکہ ایک ادارہ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے باعث ممکنہ طور پر برطرفیوں پر غور کر رہا ہے۔ یہ معلومات جرنلزم پاکستان کو  مختلف نیوز روم ذرائع سے موصول ہوئی ہیں۔آج نیوزکے ملازمین کا کہنا ہے کہ  انہیں گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں موصول نہیں ہوئیں، جس کے باعث مختلف شعبہ جات میں بے یقینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ مارننگ شو کی میزبان سدرہ اقبال اب چینل کا حصہ نہیں رہیں۔ چینل کی جانب سے تنخواہوں میں تاخیر کی وجوہات پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔اندرونی ذرائع کے مطابق آج نیوزکی انتطامیہ   کراچی اور کوئٹہ میں عملے کی برطرفیوں کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس سے ملازمین میں مزید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

اسی نوعیت کی تنخواہوں میں تاخیر کی اطلاعات  تھری سکس فائیو نیوز سے بھی  موصول ہوئی ہیں، جہاں  ملازمین کا کہنا ہے کہ بقایا جات کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن موجود نہیں۔ ان چینلز کے کارکنان کے مطابق بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات اور اشتہاری آمدن میں دباؤ کے باعث ملازمت کے تحفظ پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔اکتوبر 2025 میں نیوزون کی ممکنہ بندش کی خبریں زیرگردش تھیں تاہم چینل نے اپنی نشریات جاری رکھیں۔ اس وقت ملازمین کے مطابق کراچی، لاہور اور اسلام آباد مراکز میں عملے میں کمی کی گئی تھی۔ کسی باقاعدہ بندش کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

موجودہ صورتحال پاکستان کے براڈکاسٹ شعبے میں جاری ایک طویل رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران متعدد ٹیلی ویژن چینلز بند ہو چکے ہیں یا انہوں نے اپنے آپریشنز نمایاں طور پر محدود کر دیے ہیں۔ ان میں وقت نیوز، بزنس پلس، انڈس ٹی وی ، آپ نیوز، ٹوئنٹی فور سیون انگلش وغیرہ شامل ہیں، جنہیں  مالی مشکلات کے باعث بند یا محدود کیا گیا۔ اس وقت کی عوامی رپورٹس میں اشتہاری آمدن میں کمی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور ضابطہ جاتی دباؤ کو اہم عوامل قرار دیا گیا تھا۔مبصرین کا  کہنا ہے کہ اشتہاری منڈی بدستور محدود اور مرتکز ہے، جہاں حکومتی اشتہارات اور کارپوریٹ اخراجات چینلز کی بقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میڈیا مالکان مسلسل کم ہوتی آمدنی کا ذکر کرتے رہے ہیں، جبکہ صحافتی یونینز نے مالی شفافیت اور مزدوروں کے تحفظات میں بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔

ملک بھر میں میڈیا کارکنان تاخیر سے تنخواہوں، اچانک برطرفیوں اور محدود معاہداتی تحفظات کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ صحافتی نمائندہ تنظیمیں ماضی میں احتجاج اور متعلقہ حکام سے اپیلیں بھی کرتی رہی ہیں تاکہ میڈیا اداروں پر لاگو لیبر قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔اگرچہ مذکورہ چینلز میں موجودہ تنخواہی تاخیر کی کوئی سرکاری وجہ بیان نہیں کی گئی، تاہم نیوز روم ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال حوصلے اور ادارتی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہی ہے۔تنخواہوں میں تاخیر اور ممکنہ برطرفیاں پاکستان کے نجی براڈکاسٹ شعبے کی ساختی کمزوریوں کو اجاگر کرتی ہیں۔ صحافیوں اور نیوز روم مینیجرز کے لیے طویل مالی عدم استحکام ادارتی خودمختاری، عملے کے تسلسل اور پیشہ ورانہ معیار پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ رجحان میڈیا صنعت میں پائیدار کاروباری ماڈلز اور قابلِ نفاذ لیبر تحفظات کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں