ٹی وی شوز کے ایس او پیز ضروری

تحریر:ذبیح اللہ بلگن۔۔

جناب سہیل وڑائچ سینئر صحافی اور ہمدرد دوست ہیں۔ عید پر نشر ہونے والے دنیا ٹی وی کے پروگرام میں سہیل صاحب کی متعلق فضا علی کے ریمارکس پر اس وقت سوشل میڈیا پر بحث و تکرار جاری ہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فضا علی کو اس بے تکلفانہ لہجے میں سہیل وڑائچ صاحب کے متعلق یہ بے ہودہ گوئی نہیں کرنا چاہیے تھی ۔ وہ ایک شریف اور بھلے مانس صحافی ، قلم کار اور ٹی وی اینکر ہیں ۔ تاہم کیا ٹی وی شوز میں ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے ؟ یقیناً ایسا نہیں ہے ۔ ٹی وی شوز میں آئے روز مہمانوں سے اس طرح کے سوال و جواب کیے جاتے ہیں ۔ فضا علی سے پہلے سہیل وڑائچ صاحب سے پوچھا گیا کہ “ ارشاد بھٹی صحافی نہ ہوتے تو کیا ہوتے ؟ پھر عباس تابش صاحب کے متعلق یہی سوال دہرایا گیا ۔ سہیل صاحب سے جب فضا علی کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کیا ہیں ؟ جس پر سہیل صاحب نے کہا “فضا ایسا پھول ہے جس کے ساتھ کانٹا ہے “ اسی طرح جب فضا علی سے سہیل صاحب کے بارے میں استفسار کیا گیا تو اس نے یہ بیہودہ کلمات کہے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا ٹی وی اینکرز کے پاس پوچھنے کو یہی سوالات رہ گئے ہیں کہ کون کیا ہے اور اگر وہ یہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟ ایک ٹی وی شو میں نسیم وکی اور دیدار سے اینکر نے سوال کیا سہیل احمد اگر بکرا خریدنے جاتے تو کیسے خریدتے ؟ افتخار ٹھاکر بکرا کیسے خریدتے ؟ پھر نسیم وکی اور دیدار دونوں کامیڈین کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ ہمارے مارننگ شوز تو ان بے ہودگیوں کی نرسری بن چکے ہیں ۔ ٹی وی شوز میں بزرگ سیاستدانوں اور صحافیوں سے اینکر بڑے اطمینان سے یہ سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پہلی محبت کب ہوئی ؟ اور وہ کون تھا ؟ ۔ اب زرا سر پیٹیے کہ نانا دادا بن چکے اپنے مہمان سے یہ سوال کرنا مناسب ہے کہ وہ اپنے بیٹوں ، بیٹیوں اور پوتے نواسوں کو یہ بتائے کہ اس نے پہلی محبت کب کی تھی ۔یہ ٹی وی ٹاک شوز کم اور تھڑے پر بیٹھے ان پڑھ لوگوں کا ٹھٹہ مذاق زیادہ دکھتے ہیں ۔ میرے خیال میں ہمیں ٹی وی ٹاک شوز کے ایس او پیز طے کرنے کی ضرورت ہے ۔ ٹی وی مالکان ، پروڈیوسر حضرات اور اینکروں کو مل بیٹھ کر یہ لائحۂ عمل بنانا پڑے گا کہ مہمانوں کے ساتھ کس حد تک زاتی سوالات کرنے ہیں اور کہاں حد فاصل قائم کرنی ہے ۔ (ذبیح اللہ بلگن)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں