تحریر: امجد عثمانی۔۔
روزنامہ آواز کی “ناگہانی بندش” کا معاملہ اور ہے۔۔۔۔اسی طرح روزنامہ آج کل کے “ڈمی”ہونے کی کہانی بھی اور تھی۔۔کہہ لیں جو مزاج مالکان ٹھہرا۔۔وہی ہوا۔۔لیکن کچھ صحافتی اداروں اور خصوصا ٹی وی چینلز کے زوال کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے نو مولود نشریاتی اداروں میں “غیر متعلقہ لوگوں”کا باوقار ادارتی عہدوں پر تسلط۔۔اخبارات کے نیوز روم کو ہی لے لیں کہ وہاں ایک نظم ہوا کرتا تھا۔۔کوئی بندہ سلگ ایڈیٹر۔ ۔سب ایڈیٹر۔۔سنئیر سب ایڈیٹر۔۔نیوز ایڈیٹر سے ہوتا ہوا چیف نیوز ایڈیٹر کی کرسی پر بیٹھتا اور تب کہیں جا کر ایڈیٹر شپ نصیب ہوتی۔۔۔اسی طرح رپورٹنگ کے مراحل ہوا کرتے اور پھر کہیں جا کر کوئی ایڈیٹر ٹھہرتا۔۔!!!الیکٹرانک میڈیا آیا تو ہول سیل ہی لگ گئی۔۔وہ لوگ بھی کنٹرولر نیوز اور ڈائریکٹر نیوز ٹھہرے جنہوں نے کبھی نیوز روم کا منہ بھی نہیں دیکھا۔۔ایک خبر بھی ایڈٹ نہیں کی۔۔”خبر شناسی”کوئی مذاق نہیں۔۔ ۔ سکوت میں ڈوبی شب کی “ریاضت”مانگتی ہے۔۔اسی طرح پریذیڈنٹ۔۔بیورو چیف۔۔سی ای او اور ایم ڈی۔۔لاہور کے ایک میڈیا گروپ میں تو ایم ڈی صاحب بھی ضلعی حکومت سے آئے۔۔شاید اسی لیے وہ کارکن صحافیوں کو ایل ڈبلیو ایم سی کے اہلکار سمجھتے اور اسی لیے دس سال میں ان کی تنخواہ بھی نہیں بڑھائی۔۔انہیں ایک سفید پوش کارکن صحافی کے مسائل کا کیا اندازہ!!!یاد بخیر۔۔کوئی اڑھائی دہائی پہلے لاہور سے روزنامہ تحریک کے نام سے ایک اخبار نکلا۔۔یہ قبلہ طاہر القادری کے سیاسی ونگ پاکستان عوامی تحریک کا اخبار تھا۔۔قائد انقلاب کی انتظامیہ کا “حسن انتخاب” دیکھیے کہ انہوں نے راجن پور کے پس ماندہ قصبے داجل میں کسی اخبار کے” زلف بردار نامہ نگار” کو اپنے اخبار کا چیف ایڈیٹر مقرر کر دیا۔۔جیسے قائد انقلاب کے “سیاسی کزن” نے ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب تونسہ شریف کے “روبوٹ ایم پی اے”کے حوالے کر دیا تھا۔۔لاہور کے بہترین صحافی جناب نوید بخاری مرحوم اس اخبار کے ایڈیٹر بنے۔۔۔ایڈیٹر کیا تھےنیوز روم کے نگران۔۔کیا ہی کمال کے پروفیشنل تھے۔۔شام چھ بجے سے رات دو بجے تک اخبار کو سنوارنے میں جان کھپا دیتے۔۔”مبینہ چیف ایڈیٹر”نے پہلی بار براہ راست ایک اخبار کا جہان دیکھا تھا اور وہ بھی لاہور ایسے صحافت کے مرکز میں۔۔ گھومنے والی کرسی پر نیم دراز کہیں کھو جاتے اور پھر خوشی سے اچھلتے۔۔مخدوم صاحب مخدوم صاحب پکارتے کبھی نیوز روم۔۔کبھی رپورٹنگ۔۔کبھی مانٹیرنگ روم جا گھستے۔۔سرائیکی میں اردو بولتے اور پھر انگشت بدنداں رہ جاتے کہ یا الٰہی داجل سے لاہور صحافت کی دنیا یہ کیا دنیا ہے؟؟وہ بخاری صاحب کو دس گھنٹے میں نیوز روم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اتنی بار مخدوم صاحب پکارتے کہ وہ زچ آجاتے۔۔یہی نہیں موصوف ایسی ایسی آؤٹ پٹانگ حرکتیں کرتے کہ یوں لگتا کہ یہ کسی اخبار کا دفتر نہیں بلکہ کوئی “تھیٹر” ہے۔۔بہر حال بخاری صاحب اور ان کی ٹیم کچھ عرصہ بعد ہی تنگ آکر گھر چلی گئی۔۔بخاری صاحب نے استعفی کیا دیا کہ موصوف کے وارے نیارے ہو گئے۔ ۔۔ خوشامدیے انہیں جناب ضیا شاہد کی نقل میں” مبینہ چیف صاحب” کہنے لگے۔۔۔انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بلیک میلر کا روپ دھار لیا اور اخبار کی دھجیاں اڑادیں۔۔نامہ نگار صاحب بد نیت اور بد نظر تو تھے ہی۔۔قائد انقلاب کے ہاں “بد عنوان” بھی ٹھہرے اور “بڑے بے آبرو”ہو کر قبلہ کے کوچے سے نکلے لیکن تب چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں۔۔شومئی قسمت کہ جاتے جاتے اچھے بھلے اخبار کی کشتی بھی ڈبو گئے۔۔میرے خیال میں آج بھی روزنامہ تحریک روزنامہ آواز کی جگہ لے سکتا ہے۔۔کچھ اس طرح کا “وقوعہ”روزنامہ صحافت کے ساتھ بھی پیش آیا۔۔جناب خوشنود علی خان نے گوجرانوالہ میں اپنے اخبار کے “بیوروچیف “ایک بٹ صاحب” کو روزنامہ صحافت ٹھیکے پر دے دیا۔۔بٹ صاحب گوجرانوالہ سے اپنی ٹافیوں والی فیکٹری کی انتظامی ٹیم بھی ساتھ لے۔۔کسی کو مینجگ ایڈیٹر بنادیا تو کسی کو جنرل مینجر۔۔تب ہم روزنامہ صحافت کے اخبار روزنامہ دوپہر تھے۔۔صبح سویرے عجب لوگوں سے واسطہ پڑتا۔۔بڑے بٹ صاحب کے بھائی مینجنگ ایڈیٹر وحید بٹ حکم فرماتے کہ آج “مندول” ڈال دو۔۔۔ مندول پنجابی کا لفظ ہے جس کے معنی تہس نہس کردینے کے ہیں۔۔جنرل مینجر امان اللہ بتاتے کہ وہ گھی کی دکان پر تھے بھائی جان ساتھ لے ائے۔ ۔ ۔ امان اللہ کا حکم تھا کہ لیڈ سٹوری میری منظوری کے بغیر نہیں جائے گی ۔۔۔ہم آٹھ کالم شہ سرخی ٹریسنگ پیپر پر نکال کر ان کی”خدمت عالیہ”میں پیش کرتے۔۔وہ ٹریسنگ پیپر پکڑتے۔۔کبھی اوپر کرتے اور کبھی نیچے اور پھر کہتے آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ شہ سرخی چلے گی۔۔ہم کہتے مسٹر جی ایم ڈونٹ وری چلے گی نہیں دوڑے گی۔۔وہ مسکراتے اور کہتے میری طرف سے منظور ہے۔۔ہم بھی اس “کربناک صورتحال” کو اپنی کسی” صحافتی غلطی” کا “کفارہ” سمجھتے اور نیوز روم کی طرف چل دیتے۔۔سوچتا ہوں کہ چوبیس سال بیت گئے اخبارات سے ٹی وی کا زمانہ آگیا لیکن کچھ بھی نہیں بدلا۔۔آج بھی کسی نہ کسی صورت میں صحافت” ٹھیکے” پر ہی چل رہی ہے۔۔کہیں داجل کے نامہ نگار تو گوجرانوالہ کے بٹ صاحب”نظام صحافت”چلا رہے ہیں۔۔جب تک صحافت “ٹھیکے” پر چلے گی تب تک کچھ بھی نہیں بدلے گا۔۔۔(امجد عثمانی)۔۔
