فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹک ٹاک مواد بنانے والوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اس بات کا انکشاف پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں کیا گیا۔ سینیٹر فیصل واڈا نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آر ٹک ٹاکرز کی آمدنی پر ٹیکس وصول کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہا ہے اور اس میں سب سے زیادہ ٹیکس پنجاب سے اکٹھا ہونے کا امکان ہے، انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس اتھارٹی کو وہاں سے عمل درآمد کا آغاز کرنا چاہیے۔چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے بھی تشویش کا اظہار کیا کہ پی آر آئی کا مقصد تو سمندر پار پاکستانیوں کو سہولت دینا تھا مگر اس کے مالی فوائد اصل مستحقین تک نہیں پہنچ رہے، ان کے مطابق یہ رقم بینکوں اور منی ٹرانسفر آپریٹرز ہڑپ کر رہے ہیں۔انہوں نے ٹرانزیکشن اخراجات میں کمی اور شفافیت بڑھانے کی سفارش کی تاکہ پاکستان میں رقوم وصول کرنے والے صارفین کو اصل فائدہ پہنچ سکے۔کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی کہ پچھلے 3 سے 4 برسوں میں سبسڈی کے اخراجات اور واپس لی گئی رقوم کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے اور پی آر آئی فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ لے کر اس میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو بلال اظہر کیانی نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کا اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد جائزہ لیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ نظام کو بہتر بنانے اور نفاذ میں موجود خلا کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ایف بی آر کے سربراہ نے کمیٹی کو بتایا کہ 16 جولائی 2025 کو جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس پر عمل درآمد تاحال نہیں ہو سکا کیونکہ یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
