کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی وڈیو جرنلسٹ ذیشان نواب کو ملیرسٹی تھانے کی حدود میں تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔تشدد کرنے والے افراد نے کھلے عام دھمکیاں دی کہ بس ٹرمینل پر قبضے کی خبریں چلانا بند نہ کی تو جان سے مار دیں گے۔ذیشان نواب کا کہنا ہے کہ ان پر تشدد کرنے والوں میں عادل حفیظ اور اسکے دیگر ساتھی شامل تھے۔چند روز قبل سینئیر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے سرکاری زمین بس ٹرمینل پر قبضے کا نوٹس لیا تھا جسکی خبر چلانے پر عادل حفیظ اور اسکے ساتھیوں نے ملیر کے کئی صحافیوں کو دھمکیاں دی تھیں۔۔پھر موقع پر منگل کے روز تشدد کا نشانہ بنایا اور فرار ہوگئے۔۔اطلاع ملتے پر دیگر صحافی موقع پر پہنچے پولیس مددگار ون فائیو پر اطلاع دی گئی تاہم پولیس نہیں پہنچی۔ دوسری جانب ذیشان نواب پر تشدد کرنے والے لینڈ مافیا کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا۔۔مقدمہ وڈیو جرنلسٹ کی مدعیت میں درج کیاگیا۔
