عالمی تنظیموں نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور آزادیٔ اظہار سے متعلق آئینی و بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ملک میں پریس فریڈم کی صورتحال میں نمایاں بگاڑ آیا ہے۔بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر سرگرم نمایاں اداروں، جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی جے پی)رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز(آر ایس ایف)، پین امریکا، اور انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) شامل ہیں، نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں میڈیا حقوق کی بگڑتی صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ بعض پاکستانی تنظیموں نے بھی اس اپیل میں شمولیت اختیار کی اور ملک بھر میں صحافیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔پچیس فروری دوہزار چھبیس کو ارسال کئے گئے ایک خط میں عالمی تنظیموں نے کہا ہے کہ حالیہ ساختی تبدیلیاں، جن میں 27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت ( ایف سی سی ) کا قیام شامل ہے، صحافیوں پر حملوں، ہراسانی اور قانونی دباؤ سے متعلق مقدمات میں عدالتی نگرانی کو کمزور کرنے کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ان تبدیلیوں نے میڈیا کارکنوں کے تحفظات کو کم کیا اور استثنیٰ (امپیونٹی) کو برقرار رہنے دیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2025 میں 27ویں ترمیم کی منظوری کے بعد نئی قائم شدہ وفاقی آئینی عدالت نے روایتی عدالتی طریقہ کار کو محدود کیا ہے، جس کے ذریعے حکام کا احتساب ممکن ہوتا تھا، اور یوں صحافیوں کے خلاف تشدد اور دھمکیوں پر قدغن کمزور ہوئی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی نے عدالتی نگرانی کو متاثر کیا ہے، جبکہ حکومتی مؤقف کے مطابق اس ترمیم کا مقصد عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔دستخط کنندگان نے اپنے مطالبات میں اسلام آباد میں مقیم صحافی سہرب برکت کی غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا، جو اپنی رپورٹنگ کے سلسلے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا ایکٹ) کے تحت نوے دن سے زائد عرصے سے زیرِ حراست ہیں، حالانکہ انہیں سپریم کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے۔ سہراب برکت کی حراست پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقدمہ تنقیدی صحافت کو دبانے کے لیے سائبر کرائم قوانین کے مبینہ غلط استعمال کی مثال ہے۔اتحاد نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں استثنیٰ کے وسیع تر رجحانات کا تدارک کرے، ماضی کے اہم مقدمات کی رکی ہوئی تحقیقات کو آگے بڑھائے، اور پیکا جیسے قوانین میں اصلاحات کرے جنہیں حقوق کے علمبردار جائز رپورٹنگ اور اختلافِ رائے کو دبانے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔خط میں صحافیوں کو دی جانے والی طلبیوں اور ہراسانی، شدت پسند عناصر کی جانب سے دھمکیوں، اور بیرونِ ملک مقیم صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کے ذریعے ریاستی اختیار کے دائرہ کار میں اضافے سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خطرے سے دوچار افغان صحافیوں کی ملک بدری روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔پاکستانی صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے لیے یہ عالمی خط بدلتے ہوئے قانونی اور آئینی تناظر میں میڈیا آزادیوں پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ عدالتی ڈھانچے میں تبدیلیاں اور ڈیجیٹل جرائم سے متعلق قوانین کا استعمال کس طرح نیوز روم کے طریقہ کار، منصفانہ قانونی عمل اور صحافیوں کی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے، اور اس امر کی مثال پیش کرتا ہے کہ قانونی فریم ورک آزاد صحافت کے لیے دستیاب گنجائش کو کس طرح شکل دیتا ہے۔ یہ واقعہ میڈیا اداروں کے لیے بین الاقوامی وکالت اور قانونی آگاہی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو پریس کے حقوق کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
