وزارت داخلہ کو صحافی کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت ۔۔

بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے صحافی سے بدتمیزی اور نازیبا الفاظ کے استعمال پر قومی اسمبلی میں مزمتی قرارداد جمع کردی گئی ہے۔اسمبلی اجلاس میں صحافی کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کی بدسلوکی پر قرارداد پیش کرنے کےلیے رولز معطل کیے گئے۔قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں وزارت داخلہ کو صحافی کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔قرارداد میں کہا گیا کہ ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ صحافی کو دھکیاں دینے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان صحافی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں ناشائستہ گفتگو اور دھمکیوں کی مذمت کرتا ہے، نہ صرف بدسلوکی کی گئی بلکہ سوشل میڈیا پر دھمکیاں بھی دی گئیں۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان سینئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کی جانب سے اڈیالہ جیل میں غیر شائستہ الفاظ اور غیر مہذب و غیر اخلاقی رویے کو مذمت کرتا ہے۔یہ ایوان اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ عمران احمد نیازی نے سینئر صحافی کے ساتھ غیر مہذب سلوک کا ارتکاب کیا، اس کے خلاف کارروائی کے لیے یہ اعوان اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاملے کو کمیٹی کے سپرد کریں تاکہ سینیئر صحافی کے خلاف مزید سرودھی اور تضحیک آمیز رویے کے سدباب کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ایوان حکومت کو ہدایت کرتا ہے کہ یہ معاملہ فوری طور پر ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ کو بھیجا جائے تاکہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ میڈیا پرسنز کو بھی اس طرح کی کسی بھی غیر مناسب صورتحال کا شکار نہ ہونا پڑے۔ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔قرار دار میں کہا گیا ہے ایوان صحافی اعجاز احمد کے ساتھ نامناسب سلوک کی شدید مذمت کرتا ہے اور صحافیوں کی فورمز پر تضحیک کے لیے کارروائی کی ہدایت کرتا ہے۔یہ بھی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان حکومت کو ہدایت کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر افراد کو ٹارگٹ کرنے کے سلسلے میں ٹرینڈز کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کرے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں