ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی تنزلی۔۔

میڈیا کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان میں صحافیوں کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اظہارِ رائے اور صحافت کی آزادی سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان 2025 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 158 ویں نمبر پر آگیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں گراوٹ ہے۔ آر ایس ایف نے اس صورتحال کی وجوہات میں سیاسی دباؤ، ریاستی دباؤ کے مختلف ذرائع، قانونی پابندیوں اور صحافیوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک جرائم کے قانون پیکا کے تحت  متعدد صحافیوں اور درجنوں یوٹیوب چینلز کو نشانہ بنایا گیا، جسے تنظیم نے آزادیٔ اظہار کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا۔ آر ایس ایف نے صحافیوں کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کے بڑھتے واقعات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی ہے، جن میں صحافی احمد نورانی کے بھائیوں کے اغوا جیسے واقعات شامل ہیں۔علاقائی صورتِ حال کے حوالے سے تنظیم نے پاکستان میں رہائش پذیر افغان صحافیوں کے مسائل بھی اجاگر کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم 20 افغان صحافیوں کو جبراً واپس افغانستان بھیجا گیا، جسے آر ایس ایف نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ تنظیم نے کہا کہ پاکستان میں پناہ کے متلاشی کئی افغان میڈیا کارکن پولیس کارروائیوں، گرفتاریوں، ویزا مسائل اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔آر ایس ایف نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں صحافتی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرے جو میڈیا کی خودمختاری اور صحافیوں کی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں