امریکی عدالت نے وائس آف امریکہ کے 1,000 سے زائد ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔۔تفصیلات کے مطابق ایک وفاقی جج نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بڑاقانونی دھچکا دیتے ہوئے امریکی بین الاقوامی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کے ایک ہزار سے زائد ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔یہ فیصلہ امریکی ڈسٹرکٹ جج نے منگل کے روز سنایا، جس کے تحت 1,042 ملازمین کو، جو تقریباً ایک سال سے تنخواہ کے ساتھ انتظامی رخصت پر تھے، 23 مارچ تک دوبارہ بحال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔یہ پیش رفت ایک سال بعد سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے وائس آف امریکا اور اس کے ذیلی ادارے یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کو محدود یا ختم کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں،اس دوران وائس آف امریکا کی سرگرمیاں تقریبا معطل رہیں، ویب سائٹ پندرہ مارچ دوہزار پچیس سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئی جب کہ نشریات بھی انتہائی محدود رہیں۔ اپنے فیصلے میں جج لیمبرتھ نے کہا کہ وائس آف امریکا کی نگرانی کیلئے مقرر کاری لیک اوردیگر حکام کے اقدامات غیرقانونی تھے، انہوں نے کہا کہ حکام نے قانون طور پر لازم ادارہ جاتی اقدامات کو روکے رکھا،جس کے باعث ادارے کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔ عدالت نے وائس آف امریکا کی سرگرمیوں میں کی گئی تمام کٹوتیوں کو بھی واپس لینے کا حکم دیا۔ یہ مقدمہ وائس آف امریکا کی معطل قیادت اور ملازمین کی جانب سے دائر کیاگیا تھا، جس میں اعلیٰ سطح کے عہدیداران اور دیگر ملازمین شامل تھے،مشترکہ بیان میں مدعیان نے کہا کہ وہ ادارے کی ساکھ بحال کرنے اور دوبارہ کام شروع کرنے کیلئے تیار ہیں۔ میڈیا ماہرین کے مطابق اگرچہ عدالت نے ملازمین کی بحالی کا حکم دے دیا ہے، تاہم ادارے کی مکمل بحالی، عوامی اعتماد کی واپسی اور عالمی سطح پر رسائی بحال کرنے میں وقت درکار ہوگا۔
وائس آف امریکا کے ایک ہزارسےزائد ملازمین کی بحالی کا حکم۔۔۔
Facebook Comments
