وائس آف امریکا (وی او اے) نے 83 سال بعد اپنے بنیادی آپریشنز اس ہفتے باضابطہ طور پر بند کر دیے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق لیبر ڈے کی طویل تعطیلات کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر منگل کے روز (آج) پچھلی چھانٹیوں کے باوجود باقی بچ جانے والا اسٹاف بھی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوگا۔امریکی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا (یو ایس اے جی ایم) کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کَری لیک نے اپنے بیان میں اس برطرفی کا اعلان کیا، جسے باضابطہ طور پر ریڈکشن اِن فورس (آر آئی ایف) کہا گیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ ہم یہ آر آئی ایف صدر کی ہدایت پر کر رہے ہیں تاکہ وفاقی بیوروکریسی کو کم کیا جا سکے، ایجنسی کی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے اور امریکی عوام کے محنت سے کمائے گئے پیسے میں مزید بچت ہو سکے۔ انیس سو بیالیس میں دوسری جنگ عظیم کے دوران قائم ہونے والا ’وی او اے‘ امریکی بین الاقوامی نشریات کا سب سے بڑا اور پرانا ادارہ تھا، اپنے عروج پر یہ ریڈیو، ٹی وی اور ڈیجیٹل خبروں کو 48 زبانوں میں تیار کرتا تھا اور ہفتہ وار 36 کروڑ سے زائد عالمی سامعین تک پہنچتا تھا۔ایک سابق ملازم نے کہا کہ وی او اے صرف ایک میڈیا ادارہ نہیں تھا، اس نےکروڑوں لوگوں کو قابلِ اعتماد اور حقائق پر مبنی خبروں تک رسائی دی، اکثر ایسے ممالک میں جہاں ایسا ممکن ہی نہیں تھا، میں سمجھ نہیں سکتا کہ اسے کیوں بند کیا گیا۔کئی ملازمین، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’ڈان‘ سے بات کی، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی برطرفیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ہے اور انہیں عوامی بیانات دینے سے منع کیا گیا ہے۔ایک ملازم نے بتایا کہ زیادہ تر برطرف ہونے والے زبان کے ماہرین تھے، جن کے لیے امریکی میڈیا انڈسٹری میں روزگار کے امکانات نہایت محدود ہیں۔سابق ملازم نے مزید کہا کہ اور بہت سے لوگوں کے لیے اب نئے ہنر سیکھنے میں بھی ’بہت دیر‘ ہو چکی ہے۔برطرف ہونے والوں میں تقریباً 100 پاکستانی صحافی اور عملے کے ارکان شامل تھے، جو وی او اے کی اُردو اور پشتو سروسز میں کام کرتے تھے، دیگر افراد ویتنامی، مینڈارن، روسی، فارسی اور درجنوں دیگر زبانوں کے شعبوں سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے سرد جنگ اور اس کے بعد کے عرصے میں وی او اے کو امریکی عوامی سفارت کاری کا ایک اہم ہتھیار بنایا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال کے اوائل میں وی او اے کے آپریشنز کو بتدریج ختم کرنا شروع کر دیا تھا، تقریباً تمام اسٹاف کو مارچ میں انتظامی چھٹیوں پر بھیج دیا گیا تھا۔مئی میں تقریباً 600 کنٹریکٹرز کو فارغ کر دیا گیا تھا اور باقی ماندہ ملازمین کو جون میں برطرفی کے نوٹس موصول ہوئے تھے، ان نوٹسز میں سے کچھ وقتی طور پر کاغذی غلطیوں کی وجہ سے واپس لے لیے گئے تھے، لیکن یو ایس اے جی ایم نے واضح کر دیا تھا کہ مستقل بنیادوں پر آر آئی ایف ناگزیر ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مالی بچت سے زیادہ سیاسی محرکات رکھتا ہے۔وی او اے کی وائٹ ہاؤس کے لیے سابق بیورو چیف اور انتظامیہ کے خلاف جاری مقدمے کی ایک مدعیہ پیٹسی وڈاکسوارا نے کہا کہ یہ پیسہ بچانے کے بارے میں نہیں ہے، یہ آزاد صحافت کو خاموش کرانے کے بارے میں ہے جو انتظامیہ کی سوچ کے مطابق نہیں چلتی۔گزشتہ ہفتے ایک وفاقی جج نے اس مؤقف کے کچھ حصوں کی تائید کی تھی۔امریکی ڈسٹرکٹ جج رائس لیمبرتھ نے لیک کی یہ کوشش روک دی تھی کہ وہ وی او اے کے ڈائریکٹر مائیکل اَیبرا مووٹز کو برطرف کر سکیں، اور قرار دیا تھا کہ انہیں ایسا کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔اَیبرا مووٹز کو اس وقت انتظامی چھٹیوں پر بھیجا گیا تھا، جب انہوں نے شمالی کیرولائنا میں واقع ایک ریموٹ ٹرانسمیشن سہولت میں تبادلے سے انکار کیا تھا۔جج نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ لیک اور ان کے 2 اعلیٰ معاونین ستمبر کے وسط تک حلفیہ بیانات دیں، اور خبردار کیا کہ مزید عدم تعاون کی صورت میں انہیں توہینِ عدالت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
