نیوزچینلز، مالکان کے مفادات کا شیلٹر۔۔

تحریر: ضیاء شاہد۔۔

میں ان دنوں اے آر وائی ون ورلڈ ( موجودہ اے آر وائی نیوز ) میں جنرل رپورٹنگ کر رہا تھا۔۔۔ ساتھ ہی اپنے سنیئر کولیگز کی معاونت بھی کر رہا تھا۔۔۔ یہ بات ہے غالبا 15 جون 2008 کی۔۔۔ شام کے 4 بجے تھے۔۔۔ میں ایک خبرفائل کر رہا تھا کہ میرے چیف رپورٹر شیخ محمود نے مجھے طلب کیا، کہنے لگے۔۔۔ “طالبان کی قید سے رہائی کے بعد اسلام قبول کرنے والی بی بی سی کی رپورٹر مریم ریڈلے( سابقہ ایون ریڈلے) اسلام آباد میں عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس  کر رہی ہیں، اسے دیکھو اور بعد میں ڈاکٹرعافیہ  صدیقی کے حوالےسے ایک پیکج تیارکرو۔۔۔” اس وقت جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف صدر تھے۔ پریس کانفرنس میں مریم ریڈلے نے انکشاف کیا، “افغانستان کے امریکی فوجی اڈے بگرام ایئر بیس پر موجود قیدی نمبر 350 دراصل ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں اور یہ کہ وہ اپنی قید کے دوران اکثر ان کے چینخنے کی آوازیں سنتی تھیں انہیں پورا یقین ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ ہی ہیں۔”

میں نے اپنے ذرائع استعمال کرتے ہوئے ان کے گھر کا پی ٹی سی ایل نمبر حاصل کیا اور ون سیون پر کال کر کے مکمل پتہ لیا۔۔۔ پھر میں نے انکی والدہ محترمہ عصمت صدیقی صاحبہ سے رابطہ کیا، وہ عافیہ صدیقی کی حوالے سے بات کرنے پر تیار تھیں۔۔۔ میں اپنے سنیئرکیمرہ مین کاشف نظامی کو لیکر نکلا۔۔۔۔ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی چھوٹی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اس وقت گھر پر نہیں تھی۔ جب میں انکی والدہ سے ملنے انکے گھرجا رہا تھا تو راستے میں انکی کال آئی، پہلے تو انہوں نے انکی والدہ سے میرے رابطے پر سخت خفگی کا اظہارکیا اور اپنے بعض تحفظات بتائے، پھر ہمیں سختی سے اپنے گھر آنے سے منع کر دیا۔ ہم نے انہیں میڈیا سے بات کرنے پر قائل کرنیکی کوشش کی تاہم وہ بدستور خفگی کا اظہار کرتی رہیں۔۔۔ بہرحال ہم ان کی والدہ سے ملے بغیر واپس آفس آنے لگے اس دوران میں نے اسوقت کے چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن اقبال حیدر سے بات کرنا چاہی تاہم انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے بات کرنے سےانکارکر دیا۔۔۔ بعد ازاں انصار برنی سے رابطہ کیا لیکن وہ انڈیا جا رہے تھے انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ ان کے بھائی صارم برنی سے بات کر لوں۔ صارم برنی سے بات کر کے ہم اپنے بیورو آفس پہنچے۔۔۔ فورا پیکج کے لیے اسکرپٹ لکھا اور وائس اوور ریکارڈ کر کے اسے ایڈیٹنگ کے لیے این ایل ای ( ویڈیو ایڈیٹر) کے حوالے کیا۔۔۔ اس دوران دیگر اسائمنٹس میں مصروفیت کی وجہ سے تقریبا رات کے ساڑھے بارہ بج گئے۔ فرصت ملی تو ڈاکٹر عافیہ کی رپورٹ تیار کرنے بیٹھا۔۔۔ رپورٹ تیار ہو گئی تو ڈیسک کو اطللاع کر کے میں گھر نکلنے کی تیاری کرنے لگا۔۔۔ رات کے پونے تین بجے تھے کہ اچانک میرے سیل فون پر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی صاحبہ کی کال آئی۔۔ ریسیو کیا تو دوسری طرف فوزیہ صدیقی صاحبہ مسلسل روئے جا رہی تھیں میں پریشان ہوگیا، انہیں تسلی دی اور خیریت پوچھی، روتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ انکے پاس نیویارک ٹائمز کے رپورٹر کی کال آئی تھی جس نے انہیں اطلاع دی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بگرام ایئر بیس سے امریکا منتقل کیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ سنکر میں بے اختیار اچھل پڑا، میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ صبر کریں اور پوری تفصیل مجھے بتائیں تاہم انہوں نے کہا کہ آپ اپنا ای میل ایڈریس دیں میں ڈیٹیل میل کرتی ہوں۔۔۔ کیونکہ امریکی اخبار کے رپورٹر نے انہیں اس حوالے سے مختلف ڈاکیومنٹس کی فائل میل کی تھی۔ میں نے اپنا میل ایڈریس سینڈ کیا۔ پھر چند منٹوں میں ہی مجھے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکا منتقلی کے حوالے سے ساری تفصیلات مل گئیں۔۔۔ ان میلزکو بغور اسٹڈی کرکے اسی وقت میں نے اہم خبریں آٹھ ٹکرز کی صورت میں فورا ڈیسک انچارج ساحر بلوچ صاحب کے حوالے کی

کہ فورا بریک کریں، تاہم ساحربلوچ یقین نہیں کررہے تھے کہ اتنی اہم خبر مجھ جیسےکسی جونیئر رپورٹرکو مل سکتی ہے وہ مجھ سے سورس پوچھ رہے تھے میں نے ان سے گذارش کی کہ خبرمستند ہے تاخیر نہ کریں تاہم وہ یقین نہیں کررہے تھے مجھ سے سورس کے حوالے سے استفسار کر رہے تھے۔ میں خبر بریک کرنے پر اصرار کرتا رہا۔۔۔ پھر میں نے ڈائریکٹر نیوز محسن رضا صاحب سے بات کی وہ بھی خبر بریک کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔۔۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ادارے کی پالیسی تھی۔۔۔ یہاں میں واضح کر دوں کہ یہاں آزادی اظہار رائے کے بھی حدود و قیود ہیں۔ بعض اوقات کوئی معمولی خبر کسی ادارے کے حوالے سے ہو تو “اوپر بہت ہی اوپر” سے کالز آنا شروع ہوجاتی ہیں۔۔۔ رپورٹرز اور دیگر ذمہ داران کے سر پر لٹکنے والی تلواریں بہت تیزی سے ہلنا شروع ہوجاتی ہیں اور بعض اوقات گر بھی جاتی ہیں۔۔۔ ساتھ ساتھ چینل مالکان کو بھی خبر اور اس کی اہمیت کی پرواہ نہیں ہوتی بلکہ انہیں فکر ہوتی ہے تو یہ کہ کہیں ملازمین کے ساتھ ساتھ انکے سر پر بھی لٹکتی تلوار انکی گردن نہ اڑا دے۔۔۔ بدقسمتی سے چند ایک کے علاوہ تمام میڈیا ہاؤسزکے مالکان انڈسٹریلسٹ ہیں کیونکہ نیوزچینلز دراصل انکے کاروباری مفاد کیلیےشیلٹرکا کام دیتے ہیں، بدقسمتی در بدقسمتی یہ کہ کبھی کوئی چینل مالک اپنے کسی غیر قانونی دھندے کے باعث کسی حکومتی عتاب کا شکار ہوتا ہے تو ہماری صحافی برادری بڑی آسانی سے استعمال ہوجاتی ہے۔۔۔ آزادی اظہار رائے پر قدغن نامنطور، آزادی صحافت پرحملے بند کرو جیسے نعرے لگا کر صحافیوں کو انتظامیہ کے سامنے لاکھڑا کردیا جاتا ہے۔۔۔ فائنلی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔۔۔ تو بات کر رہا تھا کہ اسی کشمکمش میں کہ خبر چلانی ہے یا نہیں۔۔۔ مجھ پر دباؤ تھا کہ میں سورس ڈکلیئر کروں۔۔۔ تاہم میں نے سورس بتانے سے صاف انکار کردیا۔۔۔ تو انہوں نے خبر چلانے سے انکار کر دیا۔۔۔ میں نے خبر غلط ہونے پر مستعفی ہونے کی بھی پیشکش کردی مگر بات نہیں بنی۔۔۔ بالآخر تنگ آکر میں نے واضح طور پر دھمکی دیدی کہ اگر آپ نے یہ خبر نہیں چلانی تو میں اسے جیو کو دے دیتا ہوں۔۔۔ میں نے انہیں صرف دس منٹ کا وقت دیا۔۔۔ سو میری یہ دھمکی کام کر گئی۔۔۔ محسن رضا صاحب نے ساحر بلوچ کو ہدایت کی کہ خبر چلا دو۔۔۔ اللہ اللہ کر کے رات تین بجے کی خبر صبح چھ بجے کی ہیڈ لائن میں بریک کی گئی۔۔۔ ادھر اے آر وائی ون ورلڈ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکا منتقلی کی خبر ٹکرز کی صورت میں بریک ہوئی، دس سیکنڈ میں جیو نے کاپی پیسٹ ماری اور جیو کے اسکرین پر میرے ٹکرز بریکنگ میں اسکرول ہو گئے۔۔۔ پھر ایک آگ لگ گئی، سما، ڈان نیوز، ایکپسریس نیوز، نیوز ون، وقت نیوز، ہم نیوز، دنیا نیوز، میٹرو نیوز غرض آنا فانا ہر چینل میں میرے وہی ٹکرز چل رہے تھے۔۔۔ اے آر وائی صرف بریکنگ نیوز چلا کر خاموش ہوگیا اور معمول کی بلیٹن شروع کر دیا۔۔۔ ہاں مگر اتنی مہربانی کی کہ بریکنگ ٹکرز کے ساتھ ساتھ میرے پیکج کو آن ایئر کر دیا۔۔۔۔ ادھر میں منتظر تھا بیپر کا۔۔۔ جیو نے اس خبر پر اپنے متعلقہ رپورٹر کو بستر سے اٹھا کر کھڑا کر دیا تھا اور اس کا بیپر لے رہا تھا نہ صرف بیپر بلکہ تجزیہ کاروں کو لائن اپ کیا رپورٹر کی طرح انہیں  بھی اس خبر پر نیند سے اٹھنے پر مجبور کر کے تجزیہ لینا شروع کر دیا۔۔۔ نہ صرف جیو بلکہ تقریبا تمام چینلز اس خبر پر بھرپور طریقے سے کھیل رہے تھے۔۔۔ جبکہ ہمارے چینل نے شان بے نیازی سے خبر بریک کر معمول کی خبریں دینا شروع کر دی۔۔۔ میں احمقوں کی طرح کبھی اپنے اور دیگر نیوز چینلز کی اسکرینز کو تکتا اور کبھی اپنے شفٹ انچارج ساحر بلوچ کے چہرے کو دیکھتا۔۔۔ کئی کالز کی مگر ڈی این صاحب غالبا کمبل تان کر سو چکے تھے۔۔۔ جبکہ شفٹ انچارج صاحب میری بے بسی پر محظوظ ہو رہے تھے۔۔۔ اس اثناء میں دوبارہ ڈاکٹر فوزیہ کی کال آئی انہوں نے مجھ سے استفسار کیا کہ اب انہیں کیا کرنا چاہیے، میں نے انہیں مشورہ دیا کہ اب اس معاملے کو کھل کر سامنے لے آئیں اور صبح سب سے پہلے اپنے گھر پر یا پریس کلب میں پریس کانفرنس کریں اور ساری صورتحال واضح کردیں تاکہ میڈیا کے ذریعے حکومت پر پریشر ہو اور وہ ان کی امریکا منتقلی کو روکنے کے حوالے سے امریکا سے بات کرے۔۔۔ میں نے ان سے یہ بات کہی کہ اب جب کہ عافیہ صدیقی کے حوالے سے خبر پھیل چکی ہے تو اب کھل کر اس پر بات کریں۔۔۔۔ یہ محض ایک تسلی اور دلاسے والی بات تھی تاہم فوزیہ صدیقی کو یہ مشورہ صائب لگا اور وہ پریس کانفرنس پر راضی ہو گئیں۔۔۔ اس وقت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی پراسرار گمشدگی ایک معمہ تھی تاہم سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ بات کنفرم تھی کہ اس سارے معاملے میں ان کی انوالمنٹ ہے۔ میں نے اسی وقت پریس کلب کے صدر نجیب مرحوم کو فون کیا اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کر کے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی صاحبہ کی پریس کانفرنس کے انعقاد کی استدعا کی۔۔۔ اللہ غریق رحمت کرے انکی پاک روح کو۔۔۔۔ انہوں نے کہا، کوئی مسلہ نہیں میں سارے معاملے کو دیکھتا ہوں۔۔۔ اب صورتحال یہ بنی کہ چند ایک کے علاوہ ہمارے وہ سارے مہان اورسنیئر رپورٹرز جو دوپہر 12 بجے کے بعد دفتر تشریف لاتے تھے اس دن صبح سات بجے تک آفس آچکے تھے۔۔۔ سبھی کو شاید اس بات کا صدمہ تھا کہ اتنی بڑی خبر اتنے چھوٹے رپورٹر نے کیسے بریک کر دی۔۔۔؟؟؟ کس نے یہ خبر اس ٹچے اور ٹرینی رپورٹر کو دی۔۔۔ مجھ سے استفسار کر رہے تھے، میں خاموش تھا ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا اور بقول سیلانی کے دیکھتا چلا گیا۔۔۔(ضیاء شاہد ۔)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں