تحریر: عبدالرشید۔۔
بے حسی کی انتہا ہے کہ نیوز ون میں کچھ ملازمین کی اگست سیلیری تاحال نہیں مل سکی جبکہ ملازمین کے حالات ہر گزرتے وقت کے ساتھ بد سے بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ آن لائن کے دور میں یہ ملازمین سے بھیانک مزاق ہے کہ ان کو کہا گیا ہے کہ سیلیری ٹرانسفر کی جا رہی ہیں جو پیر کو ممکنہ طور پر منتقل ہوں گی جبکہ دیگر ملازمین کو سیلیری جمعہ کو مل چکی ہے۔
حد تو یہ ہے کہ ادارے پر ستمبر کی سیلیری ابھی واجب ادا ہے اور آئندہ 5 روز میں اکتوبر کی سیلیری بھی واجب ادا ہوجائے گی اور اس دوران ادارے کے مالکان کی جانب سے حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے کہ یکم نومبر کو ایک تقریب میں قرعہ اندازی کے ذریعے عمرے کے ٹکٹ دیئے جائیں گے۔
((نوٹ: الکبیر ڈوپلپرز کے مالکان ایر ویز میڈیا گروپ کے چیئرمین ہیں اور ایر ویز میڈیا گروپ نیوز ون کو چلا رہا ہے۔))
نا تو قرآن و حدیث یا کسی بزرگ کی کوئی ایسی بات ہی میرے علم میں ہے یا نظر سے گزری ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر کے کرکے انہیں شدید ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا کرنے کے بعد عمرہ کروانے سے ان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اگر ایسا کہیں تحریر ہے اور میری نظر سے نہیں گزرا تو برائے مہربانی اس حوالے سے میری بھی راہنمائی فرمائی جائے تاکہ میں بھی اپنی اصلاح کرنے کے بعد لوگوں کے حقوق سلب کروں اور چند لوگوں کو عمرہ کروا کر اپنے ملازمین کے ساتھ روا رکھے گئے عمل کا کفارہ ادا کرسکوں یا گناہ دھلوا سکوں۔
نیوز ون میں متعدد ملازمین ایسے ہیں جن کی دو ماہ کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے بجلی کاٹی جاچکی ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اہل خانہ کیلئے دوا تک نہیں لے پا رہے ہیں لیکن نہیں ادارے کے چیئرمین اور ان کے دیگر درباریوں کو لوگوں کو عمرہ کروانے میں زیادہ ثواب معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔
وہ مقتدر حلقے، ادارے، سرکاری ادارے اور حکومتی شخصیات جو ان کے ذریعے اپنی پرموشن کروانے کی ہی تک محدود ہیں اللہ پاک ان کو بھی اس کار ثواب میں شامل فرمائے، آمین۔ ثم آمین۔
عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
انتہائی افسوس کا مقام ہے ان لوگوں کیلئے جو مذہب کے نام پر لوگوں کو بیواقوف بناتے ہیں اور خود ملازمین کی اذیت اور پریشانی کے موجب ہیں۔ خیال رہے کہ ملک کے معروف نام نہاد موٹیویٹر اس ادارے کے وائس پریزیڈنٹ ہیں اور عوام کو مذہب کا چورن بیچنے والے یہ موصوف معلوم نہیں کیوں نیوزون کے مالکان اور اس کی انتظامیہ کو یہ بات نہیں بتاتے کہ ملازمین کی تنخواہیں روکنے کے حوالے سے بھی بہت سی وعید موجود ہیں۔ (زیرنظر تحریر مصنف کی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے لی گئی ہے)۔۔
