صحافتی تنظیموں سی پی این ای، پی ایف یو جے اور ایمینڈ نے اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دے دیا ۔صحافتی تنظیموں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہےکہ یہ صحافیوں کے خلاف کئی روز سے جاری کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ ملوث اہل کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کی کردار کشی، انہیں دباؤ میں لانے اور اظہار رائے سلب کرن کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے، صحافیوں کے خلاف اقدامات پر آئینی و قانونی جدوجہد کا ہر آپشن استعمال کریں گے۔کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری سہیل افضل خان اور مجلسِ عاملہ نے اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے حملے اور صحافیوں پر ہونے والے بہیمانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس افسوسناک واقعے کو نہ صرف آزادی صحافت پر کھلا حملہ بلکہ جمہوری اقدار کو روندنے کے مترادف قرار دیا -کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات ریاستی جبر کی عکاسی کرتے ہیں، جو کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں ہیں۔ انہوں نےکہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صحافی برادری کو ریاستی اداروں کی جانب سے اس قدر سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا ہو، مگر اسلام آباد جیسے حساس مقام پر پریس کلب کو نشانہ بنانا ملک میں میڈیا کے لیے خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ایک طرف حکومت آزادی صحافت کے تحفظ کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے اور دوسری جانب انہی اداروں کے اہلکار میڈیا کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اس غیر جمہوری رویے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب اسلام آباد پریس کلب کے ساتھ کھڑا ہے اور اس واقعے پر خاموش نہیں بیٹھے گے اگر ملوث اہلکاروں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے یہ محض ایک کلب پر حملہ نہیں بلکہ صحافت کی اجتماعی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس اہلکاروں نے خواتین صحافیوں کو بھی ہراساں کیا، جو ایک انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔ اس رویے نے واضح کر دیا ہے کہ میڈیا کو طاقت کے ذریعے دبانے کی روش کو اپنایا جا رہا ہے کراچی پریس کلب نے اعلان کیاکہ اس واقعے کے خلاف ملک گیر سطح پر صحافتی برادری کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر افضال طالب، نائب صدر صائمہ نواز، جنرل سیکرٹری زاہد عابد، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ، فنانس سیکرٹری سالک نواز اور اراکین گورننگ باڈی نے نیشنل پریس کلب اسلام آبادپر پولیس حملے اور صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے اپنے مذمتی بیان میں کہاکہ نیشنل پریس کلب پر پولیس کا حملہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے منافی اقدام ہے جسے پاکستان بھر کی صحافی برادری کسی صورت قبول نہیں کرتی ۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقع میں ملوث اہلکاروں کو فوری معطل کرکے گرفتار کیا جائے اور انکے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے وگرنہ پاکستان بھر کے صحافی سراپا احتجاج ہوں گے۔پشاور پریس کلب کے صدر نے کہا ہے کہ آزادی صحافت پر سمجھوتا نہیں کیا جائےگا، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد اور سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب پر ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ھے کہ ایک ناقابل معافی جرم ھے اور وفاقی حکومت فوری طور پر متعلقہ پولیس عہدیداروں کے خلاف کاروائی کرے ۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی اس واقع کا نوٹس لینے اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد اور چاروں صوبوں کے پریس کلبز کو پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے چھاپوں سے مستنثی قرار دینے کی بھی اپیل کی ھے ۔پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پولیس کے دھاوے اور صحافیوں پر پولیس تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے واقعہ کا فوری نوٹس لینے اور اسلام آباد پولیس کے تمام ذمہ دار حکام کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف ، جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی ، سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی ،نائب صدر ندیم زعیم ، جوائنٹ سیکرٹری مدثر حسین تتلہ ، شیر علی خالطی ، خزانچی نسیم قریشی اور ایگزیکٹو کونسل نے اپنےمذمتی بیان میں کہا ہے کہ نیشنل پریس کلب سمیت پاکستان بھر کے پریس کلب ملک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار کی علامت اور مراکز ہیں ۔ پولیس نے مظاہرین کی آڑ میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے اندر گھس کر اور دھاوا بول کر آزادی صحافت پر براہ راست سنگین ترین حملہ کیا ہے جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے ۔ ایک طرف پیکا جیسے کالے قوانین کو مسلط کر کے صحافیوں کو ملک بھر میں مقدمات کا سامنا کرنا ہے دوسری طرف اب پریس کلب کے اندر کھلے عام پولیس گردی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا پی ایف یوجے کی قیادت اس معاملہ پر فوری طور پر ملک گیر احتجاج کی کال دے جس میں پی یو جے بھرپور شرکت کرے گی۔کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکریٹری ریحان خان چشتی اور مجلسِ عاملہ نے اسلام آبادپریس کلب پر پولیس کے حملے اور صحافیوں پر ہونے والے بہیمانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس افسوسناک واقعے کو نہ صرف آزادی صحافت پر کھلا حملہ بلکہ جمہوری اقدار کو روندنے کے مترادف قرار دیا ہے،کے یو جے صدرنصراللہ چوہدری اور سیکریٹری ریحان خان چشتی نے اپنے بیان میں اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے اور صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے دہشتگردی قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کیخلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ان اقدامات کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی اور آئینی و قانونی جدو جہد کے تمام آپشن استعمال کئے جائیں گے۔کراچی یونین آف جرنلٹس دستور اسلام آباد پریس کلب کے ساتھ کھڑا ہے اور اس واقعے پر خاموش نہیں بیٹھے گے اگر ملوث اہلکاروں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے یہ محض ایک کلب پر حملہ نہیں بلکہ صحافت کی اجتماعی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ایچ آر سی پی نے نیشنل پریس کلب پر پولیس چھاپے کی مذمت کی اور صحافیوں پر پولیس کے حملے پر اظہار تشویش کیا۔اپنے ایک جاری بیان میں ہیومن رائٹس کمیشن نے واقعے کی فوری انکوائری اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
