sahafion ka qaatal pakistan ka dusra number

نادربلوچ کی سلامتی کو یقینی بنائی جائے، سی پی جے۔۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام صحافی نادربلوچ کو ہراساں کرنا بند کردیں اور ان کے خلاف متعدد دھمکیوں کے بعد ان کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔۔ پریس فریڈم کی اس عالمی تنظیم کے مطابق، نادر بلوچ کو گزشتہ ایک ماہ کے دوران اپنی رپورٹنگ کے سلسلے میں دو مرتبہ تفتیش کے لیے طلب کیا گیا، جس سے اس بات پر تشویش پیدا ہوئی ہے کہ ریاستی اداروں کو صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔سی پی جے کے مطابق، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے 12 دسمبر کو نادر بلوچ کو مبینہ طور پر “توہین آمیز ریمارکس” شائع کرنے کے الزام میں طلب کیا۔ یہ بات اس نوٹس اور صحافی کے بیان کی بنیاد پر بتائی گئی ہے جس کا جائزہ سی پی جے نے لیا۔ جب نادر بلوچ ایجنسی کے لاہور دفتر میں پیش نہ ہوئے تو این سی سی آئی اے نے 7 جنوری کو دوسرا سمن جاری کیا۔سی پی جے کی ایشیا پیسفک ڈائریکٹر بہ لیح یی نے کہا،پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو نادر عباس بلوچ کو ہراساں کرنا بند کرنا چاہیے اور انہیں اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دینی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کو صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں، جن میں انہیں دھمکیوں اور آن لائن ہراسانی سے تحفظ دینا شامل ہے، نہ کہ مبینہ بدعنوانی کو بے نقاب کرنے والوں کو ڈرانا۔نادر بلوچ، جو انسانی حقوق پر مبنی رپورٹنگ کے لیے ایک یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، نے سی پی جے کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ طلبی انسانی حقوق سے متعلق ان کی رپورٹنگ اور پاکستان کے توہینِ مذہب قوانین کے مبینہ غلط استعمال پر کی گئی کوریج سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی رپورٹنگ میں ایسے افراد کے بیانات شامل رہے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ ایک گروہ توہینِ مذہب کے الزامات کو متاثرین سے پیسے بٹورنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔سی پی جے کے مطابق، طلبی کے نوٹس میں محمد حسن معاویہ کو درخواست گزار نامزد کیا گیا ہے، تاہم اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سا مواد قابلِ اعتراض سمجھا گیا۔ محمد حسن معاویہ کے بھائی طاہر محمود اشرفی پاکستان علما کونسل کے چیئرمین ہیں۔نادر بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے باضابطہ طور پر این سی سی آئی اے کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ جب تک ان کے خلاف الزامات کی تفصیلات فراہم نہیں کی جاتیں، وہ طلبی پر عمل نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی تفتیش میں پیش ہونے سے قبل انہوں نے متعلقہ مواد کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔طلبیوں کے علاوہ، نادر بلوچ نے سی پی جے کو بتایا کہ انہیں دھمکیوں اور آن لائن ہراسانی کا بھی سامنا رہا ہے۔ ان کے مطابق، 30 مئی 2025 کو راولپنڈی میں ان کے گھر کے باہر ان کی گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ 4 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے واپسی پر — جہاں وہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری سے متعلق ایک مقدمے کی کوریج کر رہے تھے — ایک بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی نے ان کا تعاقب کیا۔پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر سید خرم علی اور محمد حسن معاویہ نے سی پی جے کی جانب سے بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغامات اور ای میلز کے ذریعے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔یہ مقدمہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائم اور ہتکِ عزت کے قوانین کو کس طرح حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نیوز رومز اور آزاد صحافیوں کے لیے یہ معاملہ انسانی حقوق کی رپورٹنگ سے جڑے قانونی اور ذاتی خطرات، واضح طریقۂ کار کی ضرورت، اور ذرائع کے تحفظ، ڈیجیٹل سلامتی اور ریاستی احتساب سے متعلق وسیع تر خدشات کی نشاندہی کرتا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں