راولپنڈی / اسلام آباد یونین آف جرنلٹس کا “ہم نیوز” سے وابستہ صحافی نادر بلوچ کو این سی سی آئی اے کی جانب سے آبائی ایڈیریس پر بھیجے جانے والے نوٹسز کے اجراء پر اظہار مذمت ،،، غلط ایڈریس پر آخری تاریخ کو نوٹس جاری کر کے پیشی سے محروم رکھنا فیئر ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے،، صحافی کو بلاوجہ گرفتار کیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔راولپنڈی / اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر آصف بشیر چودھری، جنرل سیکریٹری راجہ بشیر عثمانی اور فنانس سیکریٹری اظہار خان نیازی اور ایگزیکٹو باڈی کے ممبران کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نیوز سے وابستہ صحافی نادر بلوچ کو این سی سی آئی اے کی جانب سے اپنی صحافی کا موقع فراہم نہ کرنا پاکستان میں رائج کالے قانون پیکا کے غلط استعمال کی بدترین مثال ہے، آر آئی یو جے کی جانب سے جاری بیان مین کہا گیا ہے کہ نادربلوچ کو آج تک معلوم نہیں کہ انھیں کس سوشل میڈیا پوسٹ یا ٹویٹ پر نوٹس جاری کیا جا رہا ہے اور وہ ادارے کے سامنے پیش ہو کر اپنی وضاحت دینے کے لیے بھی تیار ہیں تاہم انھیں آخری تاریخ کی شام کو آبائی ایڈریس پر تین نوٹس موصول ہوئے ہیں اور تفتیشی ادارے کے سامنے ان کا پیش ہونا ممکن نہیں تھا۔۔۔نادر بلوچ تحریری درخواست کر چکے ہیں لیکن این سی سی آئی اے انھیں ان کا کوئی متنازع مواد بھی فراہم بھی نہیں کر رہا۔۔آر آئی یو جے نے پیکا کے کالے قانون کے غلط استعمال کو فیئر ٹرائل کے بنیادی اصول کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے نیشنل میڈیا کے باخبر صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔۔۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا ایسی کوششوں سے ڈرنے والا نہیں ہے اور این سی سی آئی اے کے اس رویے کے خلاف عدالت سمیت تمام فورمز پر رجوع کیا جائے گا، بیان میں خبرادار کیا گیا ہے کہ اس دوران سینیئر صحافی کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔۔۔۔۔
