جی این این کے اینکر پرسن سے ہاتھا پائی کی وڈیووائرل ہونے کے بعد اب گلوکار اور چیئرمین برابری پارٹی پاکستان جواد احمد کا کہنا ہے اگر کوئی صحافی میرے سامنے صرف ایک کے بعد ایک طنزیہ سوال رکھتا جاۓ اور میرے جواب نہ سنے تاکہ اس کا گمراہ کن اور جھوٹا کونٹینٹ بن جاۓ اور اس طرح وہ پی ٹی آئی جیسی ایک ایسی رجعت پسند اور منافق مذہب فروش پارٹی کے بیانیے کو آگے بڑھاۓ جسے میری ترقی پسند سیاست سے سخت تکلیف ہے تو اسے وہاں سے نکالنا ضروری ہوتا ہے۔سوشل رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر انہوں نے کہا ہمیشہ عزت دار لوگ ہی مشتعل ہوتے ہیں۔ مثلا اگر آپ کے گھر میں گھس کر اگر کوئی آپ کے والد کو گالیاں دے اور آپ کے روکنے کے باوجود بکواس کرتا جاۓ اور باز نہ آۓ تو آپ کیا پولیس کو بلاؤ گے اور ان کے آنے کا انتظار کرو گے یا اسے ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالو گے؟ اب ہر آدمی کی عزت کا اپنا پیمانہ ہوتا ہے۔ میں نے تو اسے اس کے مکار گھٹیا پنُ پر صرف اس لیے روکا تھا کہ انٹرویو بند کرے اور وہاں سے جاۓ کیونکہ وہ میرا حق تھا مگر اسے مارا نہیں تھا مگر چونکہ وہ ڈھیٹ صحافی اس کے باوجود اپنے وائرل ہونے کے ایجنڈے پر تھا اس لیے وہ باز نہیں آ رہا تھا تو اسے اس کا بازو پکڑ کر باہر نکالنے کے بجاۓ پھر بھی اس کا صرف بازو پکڑا اور اس کا مائیک سائیڈ پر کیا کیونکہ وہ بھی میرا حق تھا۔ مگر صرف وہی غیرت مند لوگ یہ بات سمجھ سکتے ہیں جن کا زندگی میں کوئی بڑا مقصد ہو۔
