sahafio ko nishana banane pr israel ko warning

میڈیا ہاؤسز پرمزدور قوانین لاگو کئے جائیں، آئی ایف جے۔۔

ڈان میڈیا گروپ کی جانب سے اردو ویب سائٹ ڈان نیوزڈاٹ ٹی وی کو باضابطہ بند اور ملازمین کو فارغ کئے جانے پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلٹس ( آئی ایف جے) اور اس کی پاکستانی شراکت دار تنظیم پی ایف یوجے نے مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا اداروں کو مزدور قوانین کی پابندی اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کا پابند بنایاجائے۔اس بندش کا اعلان نومبر 2025 میں کیا گیا تھا، جس کے تحت ایک درجن ملازمین کو ادارہ بند ہونے سے ایک ماہ قبل نوٹس دیا گیا۔ ڈان میڈیا گروپ کا کہنا ہے کہ اسے آمدنی میں کمی اور اشتہارات کی قلت کا سامنا تھا، جبکہ مارچ 2025 کے ایک ادارتی مضمون میں بتایا گیا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں پانچ ماہ سے اشتہارات جاری نہیں کر رہی تھیں۔  نومبر میں ہی نقطہ پاکستان نے اپنے سینتیس ملازمین کو نکالنے کا اعلان بھی کیا تھا ۔پاکستان کا میڈیا سیکٹر 2025 میں متعدد بار بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا سامنا کر چکا ہے۔ مئی میں جنگ گروپ نے جنگ راولپنڈی اور دی نیوز سے 80 ملازمین کو نکالا، جبکہ جون میں آواز سے مزید 137 افراد کو فارغ کر دیا گیا۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے نمائندوں کے مطابق لاہور اور راولپنڈی میں کارکنان کو نہ تو پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی انہیں واجب الادا رقم ادا کی گئی۔ احتجاجی مظاہروں میں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان میں تنخواہوں کی تاخیر کے معاملات بھی اُجاگر کیے گئے۔تجزیہ کاروں اور صحافتی یونینوں کا کہنا ہے کہ یہ بندشیں پاکستان کے میڈیا ماحول کے وسیع تر مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں، جن میں قیادت کے فیصلے، مالی پائیداری، ڈیجیٹل حکمتِ عملی، مزدور قوانین کا نفاذ، اور معیاری صحافت کی طویل مدتی بقا شامل ہیں۔پی ایف یو جے نے کہا کہ حکومت کو ان “غیر قانونی برطرفیوں” کا سنجیدہ نوٹس لینا ہوگا اور میڈیا کارکنوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا تاکہ ایک آزاد اور متحرک پریس کا وجود برقرار رہ سکے۔ آئی ایف جے نے حکام پر زور دیا کہ وہ نہ صرف مزدور حقوق کی خلاف ورزیوں بلکہ میڈیا شعبے کی مجموعی پائیداری کے چیلنجوں کو بھی حل کریں، اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر طویل مدتی استحکام کے لیے اقدامات کریں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں