فروری دوہزار چوبیس کے الیکشن کے بعد سے وفاقی حکومت نے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو گیارہ ارب روپے سے زائد کے اشتہارات جاری کئے جب کہ ڈیجیٹل میڈیا کو الگ سے سات سے آٹھ ارب روپے کے اشتہارات دیئے گئے۔یہ انکشاف اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے معروف سینئر صحافی ثنااللہ خان نے سیاست ڈاٹ کام کو انٹرویو میں کیا۔۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پیمرا بطور ریگولیٹری اتھارٹی جب وجود میں آئی تو اس وقت پیمرا کے قوانین میں ایک قانون یہ بھی تھا کہ تمام میڈیا ہاؤسز اپنے اشتہارات کی آمدنی کا پانچ فیصد پیمرا میں جمع کرائیں گے لیکن پندرہ یا سترہ سال تک آج تک کسی ایک میڈیا ہاؤس نے ایسا نہیں کیا، پھر جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی تو پیمرا نے میڈیا مالکان کے ساتھ مل کر اس قانون کو ہی ختم کرڈالا، ثنااللہ خان کے مطابق اس قانون کے ختم سے ہونے سے پیمرا کے سترہ ارب روپے سے زائد رقم میڈیا مالکان نے ہڑپ کرلی۔انہوں نےیہ انکشاف بھی کیا کہ پیمرا اور ایس ای سی پی سے پوچھ لیں کہ کون سی میڈیا کمپنی اپنا آڈٹ کروا کے سالانہ بنیادوں پر جمع کراتی ہے۔ثنا اللہ خان نے بتایا کہ پیمرا سے کسی بھی چینل کا لائسنس ملنے سے قبل سیکورٹی کلیئرنس کی جاتی ہے، اب تک جتنے چینلز آن ائر ہیں ان سب کے مالکان کی سیکورٹی کلیئرنس کے بعد ہی چینل کا لائسنس ملا، لیکن کئی میڈیا مالکان ایسے ہیں جن پر زمینوں پر قبضے کی ایف آئی آر ہیں۔سینئر صحافی کے مطابق میڈیا مالکان کی تنظیم پی بی اے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے خلاف مسابقتی کمیشن میں کئی درخواستیں التوا کا شکار ہیں، یہ ایک کارٹل ہے یہ لوگ کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں کہ ملازمین کو کس طرح نکالنا ہے، کس طرح ان کی تنخواہیں کاٹنی ہیں، کس طرح انہیں ذلیل و خوار کرنا ہے، کس طرح حکومت کو بلیک میل کرنا ہے۔
