سینئر صحافی سہیل وڑائچ برسلز میں آرمی چیف سے ہونے والی گفتگو کی منظر کشی اپنے کالم میں کرنے کے بعد خبروں کی زد میں ہیں جس کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے تردید بھی کی گئی تاہم اب انہوں نے اپنے نئے کالم میں تمام ناقدین سے معافی مانگ لی ہے ۔سہیل وڑائچ کا اپنے کالم میں کہناتھا کہ مجھے مجھے حالیہ واقعات پر افسوس ہے کہ ایک خبر نگار خود خبر بن گیا، ہمارا نہ یہ کام ہے اور نہ ہی ہمیں یہ زیبا ہے۔ مقتدرہ، اہل سیاست، اہل صحافت سب کا رتبہ مجھ سے کہیں بڑھ کر اور عظیم ترین ہے ،میں خود کو احقر ترین سمجھتا ہوں اور اپنی انا کو مارنے کیلئے کوشاں ہوں ،میرے جیسے ایک بونے کا دیوئوں سے کیا مقابلہ اور کیا مناقشہ۔ میں تو ہارے ہوئے لشکر کا آخری سپاہی ہوں، مجھ شُودر کا برہمنوں سے کیا تضاد؟ میں ہر ایک ناراض سے جھک کر معافی کا خواستگار ہوں اور تسلیم کرتا ہوں کہ غلطیاں سو فیصد میری ہیں اور سب خوبیاں اُن کی ہیں۔وہ اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں کہ آخر میں عرض ہے کہ ذاتی عناد کا احوال تو آپ نے سنا مگر میں اپنی صحافتی انا کو کوشش کے باوجود نہیں مار سکا ،مجھے میری صحافت کرنے دی جائے۔ اہل سیاست اور اہل صحافت میں سے جن کو مجھ سے اختلاف ہےوہ اپنی سیاست اور اپنی صحافت کریں۔ میں نے زندگی بھر کسی دوسرے کی صحافت یا خیالات کے خلاف اصولی اختلاف کے سوا کبھی ذاتی اختلاف نہیں کیا زندگی بھر کسی کا اسکینڈل نہیں بنایا نہ کبھی کسی کے اسکینڈل کو اچھالا نہ بغیر ثبوت کسی پر مالی بدعنوانی کا الزام لگایا، کوشش کی ہے کہ ہر اختلاف کا شائستگی اور صحافتی دائرہ کے اندر رہ کر جواب دیا جائے، اسکے باوجود انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر کہیں غلطی ہوگئی ہو تو اس پر میں ہمیشہ معافی اور معذرت کیلئے تیار رہتا ہوں۔سیاست اور اقتدار والوں کی جو مرضی کریں،اختلاف اور وہ بھی شائستگی سے ہم صحافیوں کا حق ہے، اگر اس سے بھی روکا جائے تو معاشرہ یک رنگ اور زوال پذیر ہو جائیگا۔ بھارت کی پاکستان سے شکست کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بھارت کے صحافی یک رنگ اور سب مودی کی ہندوتوا سوچ کے حامی تھے جبکہ پاکستان میں رنگا رنگی ہے اسلئے لوگوں نے پاکستان کے صحافیوں کو زیادہ معتبر قرار دیا۔ صحافت معتبر ہوگی تو ملک معتبر رہے گا ،میری معافی حاضر ہے بس ہمیں تھوڑی اسپیس چاہیئے۔۔ دل بڑا کرکے وہ دیتے رہیں۔۔
