ملک کو اسلامی بنادیں یا جیسے چل رہا ہے چلائیں، یاسرحسین۔۔

اداکار، ہدایت کار و لکھاری یاسر حسین نے تھیٹر اور رقص سے متعلق حکومتی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف چھاپے مارنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، یا تو ریاست ان سرگرمیوں کی باقاعدہ اجازت دے اور ان پر ٹیکس عائد کرے، یا پھر مکمل اسلامی نظام نافذ کرے اور سب کچھ بند کر دے۔یاسر حسین نے حال ہی میں ’نکتا‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مختلف معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔یاسر حسین نے سنسرشپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خود نہیں معلوم کہ ہم کس دور میں جی رہے ہیں، ہم ثقافتی لحاظ سے 70 کی دہائی سے پہلے جا رہے ہیں یا بعد میں، کیونکہ ماضی میں میڈم نور جہاں کی فلموں میں بھی آئٹم نمبر ہوا کرتے تھے۔گزشتہ دنوں بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اداکار یاسر حسین نے کہا کہ ایسی سنگین حقیقتوں کو وہاں عام سمجھا جاتا ہے، لیکن جب یہی سچ کسی فلم یا ڈاکیومنٹری میں دکھایا جائے تو سنسر بورڈ اس پر پابندی لگا دیتا ہے کہ دنیا کو معلوم نہ ہو کہ ہمارے یہاں ایسا بھی ہوتا ہے۔اداکار نے کہا کہ یہ کوئی گھر کی بات نہیں جو ہم محلے والوں سے چھپائیں، بلکہ ایک سماجی حقیقت ہے۔اداکار کے مطابق ملک میں سنسر بورڈ صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا، کیونکہ جب بھی نئی حکومت آتی ہے، وہ بورڈ میں نئے افراد کو تعینات کر دیتی ہے اور ہر کوئی اپنے طریقے سے کام کرتا ہے۔یاسر حسین نے حکومت کی جانب سے تھیٹر اور رقص کے حوالے سے اپنائے گئے رویے پر بھی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ان ٹکٹوں پر باقاعدہ ٹیکس عائد کرے اور ان سرگرمیوں کی باقاعدہ اجازت دے، بجائے اس کے کہ کبھی کبھار چھاپے مارے جائیں، کیونکہ یہ چھاپے مؤثر نہیں ہوتے اور یہ سرگرمیاں ویسے ہی جاری رہتی ہیں۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یا تو ریاست کو مکمل اسلامی بنا دیا جائے اور تمام ڈراموں اور سرگرمیوں پر پابندی لگا دی جائے، یا پھر سب کچھ اسی طرح ہونے دیا جائے جیسے ہو رہا ہے۔یاسر حسین نے یہ بھی کہا کہ اگر ریاست واقعی اسلامی بنانی ہے، تو پھر کسی غیر محرم میزبان کے ساتھ بیٹھنے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے، لہٰذا اس پر بھی پابندی عائد کی جانی چاہیے۔اداکار نے کہا کہ یا تو ملک کو مکمل اسلامی بنا دیا جائے، یا پھر سب کچھ ویسے ہی چلنے دیا جائے جیسے چل رہا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں