ہدایتکارہ سنگیتا سے بھتہ مانگنے والے ملزمان کے خلاف بھتہ خوری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمہ ملزم احمد جہانگیر سمیت 7 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا۔پولیس کے مطابق مقدمہ بھتہ خوری کی دفعات کے تحت تھانہ شیراکوٹ لاہور میں درج کیا گیا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم احمد جہانگیر نے ہدایتکارہ سنگیتا کو بھتہ نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ملزمان نے ہدایتکار سنگیتا کے ڈرامے بلھے شاہ کے سیٹ پر آکر شوٹنگ رکوائی، ملزمان ڈرامے کے سیٹ پر توڑ پھوڑ کرتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی، ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔قبل ازیں ہدایتکارہ سنگیتا نے نامعلوم افراد کی جانب سے ڈرامے کی شوٹنگ رکوانے پر مقدمہ درج کروا دیا۔ہدایتکار سید نور اور دیگر کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران سنگیتا نے بتایا کہ ان کے ڈرامے کی ریکارڈنگ کے دوران نامعلوم افراد نے سیٹ پر فنکاروں کو دھمکایا اور ہراساں کیا۔ادکارہ سنگیتا کا کہنا تھا کہ 50 سال ہو گئے ہیں اس انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے۔ کچھ لوگوں نے اسلحے کے زور پر میری ٹیم کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ ادکارہ صائمہ کو 2 گھنٹے تک سیٹ پر یر غمال بنائے رکھا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے شیرا کوٹ تھانے میں مسلح افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروادی ہے۔ہدایتکارہ سنگیتا نے کہا کہ ڈرامے میں نعمان اعجاز بھی تھے لیکن انہوں نے اس صورتحال کی وجہ سے کام نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ احمد جہانگیر بلوچ نامی شخص کہتا ہے کہ میڈم اکیلے میں مجھ سے ملیں، یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔اداکارہ صائمہ کے شوہر اور معروف ہدایتکار سید نور نے شکوہ کیا کہ ہم لوگوں کو انٹرٹینمنٹ دیتے ہیں اور ہمیں کیا مل رہا ہے۔ میری بیوی کو ہراساں کیا گیا، اس نے بہادری سے مقابلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری فلم انڈسٹری اپنی جنگ لڑ رہی ہے۔ اگر آئندہ کوئی واقعہ ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا۔سید نور نے کہا کہ پہلے لوگ ہمیں شوٹنگ نہیں کرنے دیتے تھے اب کالے کوٹ والے تنگ کر رہے ہیں۔
