معروف اینکر اور پنجاب پولیس۔۔

تحریر: اشعر عالم۔۔

یہ آج واقعی مایوس کن تھا کہ پنجاب پولیس میں کراچی پولیس والی ثقافت کی جھلک دیکھنے کو ملی۔

لاہور کی نہایت پرسکون اتوار کی صبح تھی۔ میں کینال روڈ پر جا رہا تھا جب ایک سب انسپکٹر نے مجھے روکا اور شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس مانگا۔ بالکل ٹھیک۔

پھر اگلا سوال:

“آپ کا پتہ کراچی کا ہے؟”

میں نے کہا، “جی ہاں، بالکل درست۔”

پھر اگلا سوال:آپ کے لائسنس میں بس اور ٹرک لکھا ہوا ہے… اور آپ موٹر سائیکل چلا رہے ہیں؟

اس لمحے مجھے کراچی پولیس کی جھلک صاف نظر آ گئی۔

مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ میرا لائسنس کار اور موٹر سائیکل دونوں کے لیے درست ہے، لیکن سب انسپکٹر نہایت اعتماد سے کہنے لگے،

“ایک طرف آجائیں… آپ کا لائسنس میں ابھی ٹھیک کر دیتا ہوں۔”

یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے سمجھ آیا کہ میں شاید بہت ہی ‘سافٹ ٹارگٹ’ قسم کا بندہ دکھائی دیتا ہوں۔

لہٰذا مجھے انتہائی شائستگی کے ساتھ، ایسے لہجے میں جواب دینا پڑا جو نہایت مؤدبانہ انداز میں انہیں یہ بتا دے کہ اُن کی “چائے پانی” کی امید پوری نہیں ہونے والی۔

بس پھر صاحب کو اندازہ ہو گیا کہ ان کی محنت غلط گاہک پر ضائع ہو رہی ہے۔

اور اب… مجھے واقعی شرمندگی ہو رہی ہے کہ میں نے کبھی لاہور پولیس کی اتنی تعریف کیوں کی تھی۔

لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ کم از کم اس افسر نے ثابت کر دیا کہ بین الصوبائی ثقافتی تبادلہ آج بھی زندہ ہے۔(اشعر عالم)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں