اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی بریت کی درخواست مسترد کردی۔۔خصوصی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ۔۔اس اسٹیج پر ریکارڈ دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشتگردی کا مقدمہ نہیں بنتا ۔ اسلام آباد انسداد دہشت گردی کا بریت کی درخواست مسترد کرنے کے تحریری فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر کا کہنا ہے کہ ۔۔منشیات اور دہشت گردی کے من گھڑت جھوٹے مقدمے میں سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی بریت کی درخواست اسلام آباد انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مسترد کردی ایک تو اسٹیٹ کونسل کی جانب سے بریت کی درخواست کی مخالفت کی گئی دوسرا عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ” پولیس گواہوں کے بیانات پولیس کے موقف کی تائید کرتے ہیں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملزم کو کسی صورت سزا نہیں ہو گی پراسیکوشن کے ریکارڈ کے مطابق جو پولیس والا مطیع اللہ جان کی گاڑی کی ٹکر سے رات سوا دو بجے ناکے پر زخمی ہوا تھا اس کی میڈیکل رپورٹ بھی موجود ہے مطیع اللہ جان کی گاڑی سے برآمد ہونے والی آئیس کو بھی قبضے میں لیکر ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے بغیر جرح کے صحافی ثاقب بشیر کے بیان حلفی کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا پولیس ریکارڈ کے مطابق مطیع اللہ جان کی گاڑی نے مارگلہ روڈ پر پولیس کانسٹیبل کو ہٹ کیا پھر مطیع اللہ جان نے دوسرے پولیس اہلکار سے رائفل چھین لی اور دھمکیاں بھی دیں۔ آئیس بھی مطیع اللہ جان کی گاڑی سے برآمد ہوئی ،ریکارڈ کے مطابق ای نائن مارگلہ روڈ موقع پر ہی مطیع اللہ جان کو گرفتار کر لیا گیا تھا زخمی پولیس اہلکار کی میڈیکل رپورٹ ریکارڈ پر موجود ہے جو پراسیکوشن کے کیس کو سپورٹ کرتی ہے منشیات کے کیسز میں پولیس اہلکار بھی اچھے گواہ کے طور پر لئے جا سکتے ہیں اس اسٹیج پر بریت کی درخواست منظور کرنے کے لیے گراؤنڈ ناکافی ہیں۔ مطیع اللہ جان کی بریت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔۔
