مطیع اللہ جان پر آج فردجرم عائد ہوگی۔۔

سینئر صحافی  مطیع اللہ جان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے دائرۂ اختیار سے متعلق ان کی درخواست مسترد کر دی ہے اور ان کے خلاف دہشت گردی اور منشیات کے الزامات پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی جائے گی، یہ بات انہوں نے اپنے تصدیق شدہ ایکس اکاؤنٹ پر بتائی۔اپنی پوسٹ میں جان نے مقدمے کو من گھڑت اور ’’صحافیوں اور صحافت پر کھلا حملہ‘‘ قرار دیا، اور اس مؤقف کو دہرایا کہ انہیں 27 نومبر 2024 کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) سے اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ ساتھی صحافی ثاقب بشیر کے ہمراہ احتجاجی ہلاکتوں کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔مطیع اللہ جان نے  اردو میں اپنے پیغام میں لکھا کہ اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی اور منشیات سے متعلق قوانین کے تحت اگلے روز، 19 فروری کو فردِ جرم عائد کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام ان کے خلاف ایک ’’جعلی مقدمہ‘‘ چلا رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر ان کے اغوا کے بعد گھڑی گئی۔مطیع اللہ جان  نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ یہ مقدمہ ان کی صحافتی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اور ثاقب بشیر کو ایف آئی آر درج ہونے سے قبل پمز کی پارکنگ سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے، اور یہ قانونی کارروائی آزاد صحافیوں پر وسیع تر دباؤ کا حصہ ہے۔مطیع اللہ جان کے  خلاف ایف آئی آر تھانہ مارگلہ میں درج کی گئی، جس میں الزام ہے کہ ان کی گاڑی نے اسلام آباد کے سیکٹر ای-9 میں ایک چیک پوسٹ پر تعینات پولیس کانسٹیبل کو ٹکر ماری، انہوں نے اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کچھ دیر کے لیے اس کا اسلحہ چھین لیا، جبکہ گاڑی سے 246 گرام میتھامفیٹامین برآمد ہوئی۔ استغاثہ نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997، کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز ایکٹ 1997 اور پاکستان پینل کوڈ کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔مطیع اللہ جان کی قانونی ٹیم نے  عدالت کے دائرۂ اختیار اور شواہد کی کافیّت کو چیلنج کیا، خصوصاً مبینہ منشیات کی برآمدگی کی ویڈیو دستاویزات کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا، جو پہلے کی سماعتوں میں بھی زیرِ بحث آیا تھا۔ ان اعتراضات کے باوجود عدالت نے فردِ جرم عائد کرنے تک سماعت ملتوی کر دی۔یہ مقدمہ صحافتی تنظیموں اور میڈیا حقوق کے گروپوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جو ایک نمایاں صحافی کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی کو پاکستان میں آزاد رپورٹنگ پر بڑھتے ہوئے قانونی دباؤ کی علامت قرار دیتے ہیں۔ مطیع  اللہ جان نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کارروائی کو اپنی تحقیقاتی صحافت کے خلاف انتقامی اقدام قرار دیا ہے۔پاکستانی صحافیوں اور میڈیا اداروں کے لیے یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ میڈیا شخصیات کے خلاف مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی اور منشیات کے قوانین کا بڑھتا ہوا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے تحقیقاتی صحافت اور آزادیٔ صحافت پر ممکنہ منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال قانونی تحفظات، صحافتی سرگرمیوں کی محتاط دستاویز بندی، اور میڈیا کارکنان کو درپیش بدلتے ہوئے قانونی خطرات سے آگاہی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں