اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے مقدمے میں تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مبینہ طور پر برآمد کی گئی منشیات کی فارنزک رپورٹ 9 فروری تک جمع کرائی جائے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے مطیع اللہ جان کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی۔ مطیع اللہ جان اپنے وکلا قادِر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران سرکاری پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ مطیع اللہ جان پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے شواہد موجود ہیں، جن میں “آئس” یا کرسٹل میتھ کی مبینہ برآمدگی شامل ہے، اور گواہان بھی دستیاب ہیں۔ مطیع اللہ جان کے وکیل قادِر جنجوعہ نے دلیل دی کہ منشیات کے مقدمات میں ویڈیو شواہد ضروری ہوتے ہیں، جو اس کیس میں موجود نہیں۔ جسٹس ارباب نے سوال کیا کہ کیا ویڈیو کی عدم موجودگی فردِ جرم عائد کرنے سے روکتی ہے، جبکہ جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ اگر قبضہ ثابت ہو جائے تو فردِ جرم کیسے روکی جا سکتی ہے۔ایڈووکیٹ جنجوعہ نے زور دیا کہ مطیع اللہ جان گزشتہ تین دہائیوں سے عدالتی رپورٹس کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ اس وقت گھڑا گیا جب وہ 26 نومبر کے واقعے کی رپورٹنگ کے لیے پمزہسپتال گئے تھے۔ جسٹس ارباب نے دفاع سے دیگر الزامات، جن میں کلاشنکوف کی برآمدگی بھی شامل ہے، پر وضاحت طلب کی۔ جنجوعہ نے بتایا کہ 28 نومبر 2024 کو لیے گئے منشیات کے نمونے فارنزک جانچ کے لیے بھجوا دیے گئے تھے، لیکن 14 ماہ گزرنے کے باوجود رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔تفتیشی افسر نے تصدیق کی کہ فارنزک رپورٹ کے لیے یاددہانیاں بھیجی گئی ہیں، تاہم ابھی تک نتائج موصول نہیں ہوئے۔ عدالت نے اگلی سماعت تک، جو 9 فروری کو ہوگی، رپورٹ جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی۔
مطیع اللہ جان منشیات کیس،فرانزک رپورٹ طلب۔۔
Facebook Comments
