محترم صدر لاہور پریس کلب و عہدے داران کے نام

تحریر:  سید شاکر علی شاہ۔۔

 لاہور پریس کلب صرف ایک عمارت نہیں یہ ان صحافیوں کا قلعہ ہے جو پریس کلب کے ممبرز نہیں ہیں کیونکہ صحافیوں کے متعلق جو بھی قانون سازی ہو اس پر کوئی بھی ردعمل یا حکمت عملی کلب کی طرف سے ہی جاری ہوتی ہے۔

لیکن لاہور پریس کلب میں ہمیشہ ووٹوں کی کیوں سیاست ہوتی ہے کبھی اچھے برے کھانے کی کبھی پلاٹوں کی ہمیشہ اپنے مفاد کے تحفظ کی سیاست ہوتی ہے۔کلب سے باہر بیٹھے ہزاروں صحافی کلب کی لڑائیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

 حکومت کی طرف سے صحافیوں کے خلاف پیکا ایکٹ یا  کوئی اور قانون سازی پر  کئی دہائیوں سے صرف اقتدار والا گروپ جدوجہد کرتا نظر اتا ہے اس میں بھی 100 یا 200 سے زیادہ لوگ نہیں ہوتے باقی ہزاروں ممبرز اپنے افس اور گھروں میں بیٹھ کر کلب عہدے داران پر تنقید کرنے کے پوائنٹ ڈھونڈتے ہیں محترم صدر صاحب اور کلب عہدے داران کنٹین پر چائے، کھانا اور دوسری مراعات جس کے لیے ہر سال گورنمنٹ اپ کو کروڑوں روپیہ گرانٹ دیتی ہے جو صحافیوں کے نام پر مل رہا ہے جسے صرف کلب ممبران ہی انجوائے کر رہے ہیں ان کا احتساب اپ کیوں نہیں کرتے اپ کو لاہور کے صحافیوں کا سربراہ چنا گیا ہے اپ پریس کلب میں ہونے والے تمام احتجاج جو پیکا ایکٹ اور دوسرے کالے قوانین کے خلاف ہوئے ہیں ان کی فوٹیج نکالیں اور جو ممبرز اس میں شامل نہیں ہوئے ان کے خلاف ایکشن لیں ؟

کیونکہ انہی کی وجہ سے  صحافیوں کے خلاف بننے والا ہر قانون لاگو ہو جاتا ہے لیکن یہ ہزاروں ممبرز احتجاج کے لیے اکٹھے نہیں ہوتے

معزز  عہدے داران اپ کی سب سے بڑی غلطی ہے میڈیا اور صحافت کو ایک ہی معنی میں استعمال کرنا میڈیا ایک صنعت ہے صحافت ایک ذمہ داری ہے   ہر اینکر یا یوٹیوبر ہر کانٹینٹ کریئیٹر صحافی نہیں ہوتا  صحافی وہ ہے جو تحقیق کرتا ہے خبر کی تصدیق کرتا ہے اخلاقی حدود کا خیال رکھتا ہے اور نتائج کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے

میں نے ہمیشہ حکومت کے اچھے کاموں کی تسکین کی اور غلط پالیسیوں کے خلاف بھی اپنا بھرپور قلمی جہاد کیا لیکن اج تنقید اور اختلاف رائے کو کوئی برداشت نہیں کرتا  لاہور پریس کلب ہو یا حکومت ؟

 لاہور میں پریس کلب کے علاوہ صحافیوں کی سینکڑوں تنظیمیں ہیں مگر صحافی تنہا ہے یہ تنظیمیں اب حقوق کی جنگ نہیں لڑتی بلکہ صحافیوں کے نام پر پلاٹس مراعات اور قربتوں کی سیاست کرتی ہیں نچلے درجے کا صحافی لٹ رہا ہے دمکایا جا رہا ہے مگر لاہور پریس کلب سے اجتماعی اواز نہیں اٹھتی اخبارات بند ہو رہے ہیں میڈیا ہاؤسز تنخواہیں نہیں دیتے اور ہمارے پیشے کی بےعزتی ہو رہی ہے محترم صدر صاحب اور عہدے داران یہ ہزاروں وہ ممبرز ہیں جو کلب کے باہر والے صحافیوں کا حق بھی کھا رہے ہیں اور مراعات بھی لیتے ہیں اور ہر الیکشن میں تنقیدی چوہدری بن کر  عہدے داران کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس بار ان کا محاسبہ کریں ہار جیت اللہ پر چھوڑ دیں پورے لاہور کے صحافی اپ کے لیے دعا گو ہیں

 یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے اگر اپ خاموش رہے تو نہ رہے گی صحافت نہ رہے گا صحافی اور نہ ہی رہے گی ازادی ،

 طاقتور بدل جاتے ہیں اقتدار ختم ہو جاتا ہے مگر قلم کا حساب باقی رہتا ہے۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔(شاکر علی شاہ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں