فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ ٹیکس دہندگان اربوں روپے مالیت کے اثاثوں اور آمدن پر مبنی پرتعیش طرزِ زندگی گزار رہے ہیں ‘یہ افراد لگژری گاڑیاں‘ مہنگے برانڈڈ کپڑے‘ بیگزاور گھڑیاں استعمال اورلاتعداد غیرملکی دورے کرتے ہیں لیکن اپنے ٹیکس گوشواروں میں نہایت قلیل آمدن ظاہر کر رہے ہیں۔ایف بی آر کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے مزید ممکنہ مبینہ ٹیکس چوروں کی تفصیلات ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اور متعلقہ ریجنل ٹیکس دفاتر (آرٹی اوز ) کو بھیج دی ہیں تاکہ ان افراد کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع کی جا سکے جنہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پرتعیش جائیدادیں اور آمدن ظاہر کی مگر اپنے جمع کردہ انکم ٹیکس گوشواروں میں کوئی نمایاں آمدن نہیں بتائی۔دی نیوز کے پاس موجودتفصیلات کے مطابق لاہورایک ٹریول انفلوئنسر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دکھایا ہے کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں یعنی 2021سے 2025 کے دوران 25سے زائد ممالک کا سفر کر چکی ہیں، تاہم انہوں نے اپنی آمدنی صرف 4لاکھ 42ہزار 46روپے سے لے کر 37لاکھ 90ہزار روپے تک ظاہر کی ہے۔ ایک اور سوشل میڈیا انفلوئنسراور ماڈل جن کا تعلق اسلام آباد سے ہے، نے اب تک 13 ممالک کا سفر کیا ہے۔ ان کے پاس زری زیم جیولری، بین الاقوامی برانڈز کے متعدد لگژری ملبوسات، لوئی وٹون نیورفل ایم ایم ہینڈ بیگ، گُچی کے کپڑے اور زیورات، ہونڈا سوک سے ٹویوٹا لینڈ کروزر V8تک کا سفر، ڈیوَر بُک ٹوٹ بیگ، رولیکس گھڑی، اعلیٰ معیار کے سرمائی ملبوسات، لگژری ریزورٹ وئیر ایکسیسریز اور قیمتی برقی آلات شامل ہیں۔ تاہم، انہوں نے گزشتہ چند برسوں میں اپنی آمدنی صرف 35لاکھ سے 54لاکھ 90ہزار روپے کے درمیان ظاہر کی ہے۔۔
